ایک اور قبیلہ جن کو بلوچی کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو مکرانی بھی کہلاتے ہیں یہاں آباد ہیں غالبا انکی دوسری یا تیسری نسل چل رہی ہے اور انکا یہ حال ہے کہ آج تک ان کو اماراتی تسلیم نہیں کیا گیا ۔
ان کے گھر آج بھی پرانے سٹائل کے ہیں جبکہ روز گار بھی پرانا ہے مچھلیاں پکڑنا۔
انکے پاس نوکری نہیں اگر ہے تو تیسرے درجے کی انکی اپنی کوئی شناخت نہیں انکے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں یہ کئی عشروں سے اس جگہ آذاد قیدی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
بظاہر یہ عربوں کا قومی لباس کدورہ پہن سکتے ہیں مگر بلکل عربوں جیسا نہیں بلکہ اس سے مختلف کیونکہ اس کی انکو اجازت نہیں۔
ایک دن ایک بلوچی سے باتوں باتوں میں اس بات کا ذکر چھڑ گیا (حالاں کے یہ اس ٹاپک پر بات نہیں کرتے ) تو وہ اپنے حلات سناتے ہوئے رونے لگ گیا کہ میری کیا زندگی ہے کہ میں واپس اپنے علاقے مکران میں بھی نہیں جا سکتا ۔ساری زندگی یہاں ہی گزرگئی ہے مجھے اپنا مستقبل بھی تاریک لگ رھا ہے ۔
اب ان عربوں کی سنیے انکے پاس ڈپلومیٹ پاسپورٹ ہیں امریکہ انگلینڈ آسٹریلیا بغیر ویزہ کے جا سکتے ہیں کوئی چیکنگ نہیں ۔
ایسے کتنے ہی عرب لڑکوں کو میں جانتا ہوں جو صرف ان ممالک میں حکومتی پیسے پر تعلیم کے نام پر عیاشی کرتے ہیں ۔
بڑی گاڑی رکھنا پانچ پانچ شادیاں کرنا اور طلاقیں دینا ریمشی اور آواز پیدا کرنے والا کپڑا پہننا ہزار درھم فی اونس والی خوشبو لگانا لگثری کئی کئی کنالوں میں پھیلے گھر جو حکومت انکو اپنے خرچے پر بنا کر دیتی ہے ۔
گھر کے ہر فرد کی اپنی مہنگی سے مہنگی گاڑی باتیں رئیسوں والی مگر جیب سے فقیر کیونکہ اپنی آدھی سیلری یہ بنک کو دے دیتے ہیں باقی یہ اپنی شاہ خرچیوں میں اڑا کر مہینے کی دس تاریخ کے بعد فقیر ہو جاتے ہیں ۔
شادیوں پر پر تعیش کھانے مہنگے لباس روشنیوں میں نہایا ہوا چراغاں جو پورے پندرہ دن تک ہوتا ہے ۔

اپنی ذات اور عیاشیوں پر لاکھوں درھم خرچ کرنے والے جب ہم جیسوں غریب الوطن کی شاپس پر آتے ہیں تو تیس درھم کے لیے حرام حرام کے نعرے لگاتے ہیں اور تیس درھم انکی جان نکانے والا فرشتہ بن جاتے ہیں ۔
انکے قانون تحفظ تو دیتے ہیں انصاف نہیں ۔
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو
یہ جو تم بھول جایا کرتے ہو
ان غریب الوطن لوگوں کے جسم سے ایک ایک قطرہ خون نچوڑنے والے یہ بات بھولے بیٹھے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔آج گلف میںہر پردیسی اداس اور پریشان ہے ۔
ظلم وستم کی تصویریں ہیں رستے رستے لوگ
ویراں لہجے اجڑے چہرے سہمے سہمے لوگ
سارے چہرے زرد ملے اور دل بھی مرجھاے
کہاں گئے وہ پھولوں جیسے مہکے مہکے لوگ

اس تصویر میں ھاتھ باندھے کھڑا یہ لوکل کم از کم تیس سے پچاس ہزار تنخواہ لے رھا ہو گا اور محنت اور پسینے سے شرابور ان ورکرز کی تنخواہ مشکل سے پانچ سے آٹھ سو درھم ہو گی ۔ اپنے خون پسینے سے اس صحرا کو ان کے لیے جنت بنانے والے آج کس طرح دھوکے سے واپس بھیجے جا رہے ہیں یہ ایک الگ سٹوری ہے ۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر کیا فائیدہ پڑھنے والے کے پاس ٹائیم ہی نہیں ۔
Posted by جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین on March 30, 2010 at 3:33 am
وقت ہے ۔ اور آپکی تحاریر پڑھنے کا بہت وقت ہے، مگر بھائی صاحب ! ہتھ ہولا رکھیں، کسی ملک کا ایک اجنبی جب دوسرے دیس میں اترتا ہے تو یہ اس پہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اس دیس کے قوانین کی پابندی کرے۔خواہ وہ قوانین اجنبی کو کسقدر ناپسند ہوں۔ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔
آپ آجکل کسی وجہ سے کچھ “اُکھڑے” ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور کچھ کچھ “ڈئپرئشن” کا شکار نظر آتے ہیں۔ غالبا اہل خانہ سے دور اور پردیس میں متواتر جد وجہد سے دل پہ غبار ہے۔ اللہ تعالٰی پہ بھروسہ کرنا چاہئے آپ محنت کرتے رہیں۔ اپنی دوکان یا معاملات پہ توجہ دیں۔ انشاءاللہ اچھے وقت بھی آئیں گے۔ اگر وہ وقت نہیں رہا تو یہ وقت بھی نہیں رہے گا اور اچھا وقت ضرور آئے گا ۔ انشاءاللہ
Posted by کنفیوز کامی on March 30, 2010 at 1:26 pm
انشااللہ آے گا ضرور آے گا پر جو گزر رھا ہے اسکا حال بتانا بھی تو ضروری ہے ۔