ضرورت ایجاد کی ماں ہے یہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے ۔
انسان مٹی سے بنایا گیا پھر اسے گوشت میں بدل دیا گیا اس گوشت کے انسان نے اپنے جسم کی راحت اور سجاوٹ کے لیے کیا کیا ایجاد نہیں کیا ۔
انسانی بدن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حالت بدلتا رھتا ہے عروج سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا بندن مخلتف حالات اور واقعات سے گزرتا ہوا زوال تک پہنچتا ہے اور دوبارہ مٹی میں مل جاتا ہے ۔
مگر انسان ہے کہ اسی تگ و دو میں لگا رھتا ہے کہ یہ ہمیشہ جوان اور خوبصورت ہی رہے ۔
اگر سر سے پاوں تک جائزہ لیا جائے تو کتنی ایجادات انسانی جسم کے لیے کی گئیں ہیں ۔ جیسے سر کے بال دوبارہ اگانے کے لیے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری وجود میں آئی پھر اسے استعمال کروانے کے لیے احساس کمتری اور شادی کا نہ ہونا کو اہم موضوع بنایا گیا کہ اگر سر پر بال نہیں تو آپ کی شادی نہیں ہو سکتی احساس کمتری کاشکار ہو نا چھوڑیے اور آج ہی لاکھوں روپے کی تکلیف دہ سرجری کروائیں اور احساس کمتری سے نجات پائیں شادی کروا کر بال دوبارہ غائب کروائیں۔
ناک پتلا موٹا اور سیدھا کرنے چہرے کی جھریاں ڈھلتی عمر کو چھپانے کے لیے پلاسٹر سرجری کو استعمال کیا گیا۔ کئی دولت مند حسیناوں اور مردوں نے اپنے جسم کو اس سرجری سے تراش خراش کے خوبصرت بنانے کی کوشش کی ۔
آنکھوں کے لیے طرح طرح کے رنگ برنگے لینز بنائے گئے جن سے آپ گرگٹ کی طرح اپنی آنکھوں کا رنگ بدل سکتے ہیں ۔
چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں سے بال ختم کرنے کے لیے کئی طرح کی کریمیں ویکس اور لیزر مشینیں بنائی گئیں جن سے مردوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے ۔
انسان کو گورے کالے رنگ کے چکر میں ڈال کر فضول اور بے کار فارمولوں کی
کریموں سے لوٹا جا رھا ہے جن کا فائدہ کم نقصان ذیادہ ہے ۔ مزے کی بات کہ اس دوڑ میں خواتین کو بے وقوف بنا کر اچھی طرح لوٹنے کے بعد اب مردوں کی باری آ گئی ہے جن کے لیے نت نئی کریمیں بازار میں آ چکی ہیں ۔
اب کالے مرد حضرات بھی ان کریموں کی برکت سے گورے ہو سکتے ہیں ۔
انسان جسم کی خوبصورتی کے لیے نت نئے فیشن ایجاد کرتا ہے حالاں کہ اگر آپ ایسے ڈھنگ کے کپڑے ہی پہن لیں جن کو پہن کر آپ واقعی انسان ہی لگیں تو کافی ہیں۔
لیکن بے تکے فیشن کر کے مرد اور عورت دونوں سجے ہوے عید کے گاے بکرے ہی لگتے ہیں ۔
یہ تو تھی جسم کی بات جس کو سجانے سنوارنے کے لیے انسان دن رات سوچتا اور دوڑ بھاگ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن
اس جسم کے اندر ایک ایسی روحانی ہستی بھی رہتی ہے جس کو ” روح ” کہتے ہیں۔
انسان اگر جسم اور روح کا حساب کرے تو کتنے فیصد توجہ جسم کو اور کتنے
فیصد روح کو دیتا ہے ۔
روح کو بھی غذا چاہیے روحانیت کی غذا ذکر اور افکار کی غذا جس سے یہ صحت مند اور توانا رہتی ہے ۔
مگر شیطانی کام موسیقی کو روح کی غذا کہ کر غلط تشریح کی جارہی ہے۔
جھوٹ فریب مکاری دھوکے بازی جسم کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں وقتی سکون دے سکتے ہیں مگر روح کے لیے یہ سب بیماریاں ہیں ۔
جسم کو بیماری لگ جائے تو ہم ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں مگر روح کا علاج کبھی نہیں کرتے ۔
سوچیں کہ آپ اپنی روح کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں؟
Posted by سعد on March 21, 2010 at 10:23 am
ایسی کمزور روح جب جسم سے جدا ہوتی ہے تو فرشتے اس کا سواگت بھی پنجاب پولیس کی طرح ہی کرتے ہیں!
Posted by کنفیوز کامی on March 22, 2010 at 2:01 am
سعد بھیا روح کا نہیں جسم کا سواگت میری جان الٹا لکھ گے کہ سوچ گے ۔
Posted by شاہدہ اکرم on March 21, 2010 at 12:34 pm
کامی اگر آپ میرے
shahidaakram@hotmail.com
اس ایڈریس پر اگر پاس ورڈ بھیجدیں تو مہر بانی ہو گی یا جیسے خُرم نے اسماء کا اپنے پی بلاگ پر اِنتِظام کیا ہے وُہ کردو کیُونکہ پتہ نہیں کیا بات ہے جی میل اوپن ہی نہیں ہو رہی
شُکریہ پیشگی اور معزرت اِس بات کی کہ بار بار تکلیف دیتی ہُوں
آپ کی اِس پوسٹ پر تبصرہ تفصیل طلب کرتا ہے تو آرام سے کرُوں گی ٹھیک ہے
Posted by پھپھے کٹنی on March 21, 2010 at 4:24 pm
لگتا ہے الطاف گوہر نے لکھی ہے يہ تحرير
Posted by کنفیوز کامی on March 22, 2010 at 2:03 am
باجی میں نے لکھی ہے اس لیے پھیکی ہے مصالحہ دار تو آپ لکھتی ہیں وہ بھی پندرہ مصالحے والی
Posted by سید اآصف رضا on March 23, 2010 at 6:00 pm
بہت اچھی تحریر ہے.ط
Posted by شاہدہ اکرم on March 23, 2010 at 7:54 pm
ہم جب یہ سوچتے ہیں کہ ہم اوپری شخصیت کو بدل کر اندر کو تبدیل کر سکتے ہیں تو یہ ہماری وُہ غلط بیانی ہوتی ہے جِس سے ہم بس دُوسروں کو دھوکہ دے سکتے ہیں اپنے اندر کو کیسے خاموش کروا سکتے ہیں جو جُھوٹ جُھوٹ کے نعرے لگا کر ہمیں خُود ہی جُھٹلا رہا ہوتا ہے
بلاگ اوپن کر لیا ہے دیکھ لیں ذرا اور شُکریہ کیسے ادا کرُوں
Posted by جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین on March 23, 2010 at 8:51 pm
بلا شبہ نہائت سلجھی اور فکر انگیز تحریر ھے۔
اللہ آپ کو جزآئے خیر دے۔ آمین
Posted by کنفیوز کامی on March 24, 2010 at 12:00 am
شکریہ سید آصف رضا صاحب
اور
جاوید گوندل صاحب حوصلہ افزائی کا۔
آپی شکریہ ادھار رھا ۔
Posted by عمر احمد بنگش on March 24, 2010 at 12:58 am
نہایت عمدہ
Posted by کامران اصغر کامی on March 24, 2010 at 1:39 am
بس لالے آپ لوگوں کی صحبت کا نتیجہ ہے کہ رنگ رہے ہیں ۔