جب یہ تحریر میری نظر سے گزری تو دل چاھا کہ میں بھی کچھ اپنے خیالات شئیر
کروں ان حیدرآبادی خواتین کے متعلق ۔
یوں تو یہ حیدرآبادی پورے یو اے ای میں پھیلے ہوے ہیں مگر دبئ اور اس کے اردگرد کے علاقے ابوظہبی فجیرہ میں ان کی تعداد ذیادہ ہے ۔
یہ عورتیں ان عربوں کے ساتھ شادی کیوں کرتی ہیں اسکی کئی وجوھات ہیں ۔
اول تو یہ حیدرآباد کی روایت ہے جو چلی آ رہی ہے ۔
ان کے علاقے میں غربت کا ذیادہ ہونا۔
عربوں کا اپنی دولت کا اثر ورسوخ ان پر چھوڑنا۔
شاید کچھ دولت کے لالچ میں آکر ایسا کرتے ہیں ۔
کچھ اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ۔
ہمارا ایک کسٹمر ہے جس کی عمر ستر سال کے قریب ہے اور حال ہی میں وہ حیدآباد سے ایک انیس بیس سال کی لڑکی بیاہ کر لایا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسکی تین بیویاں وفات پا چکی ہیں ۔اس بات کا پتا ایسے چلا کہ وہ اپنی بیوی یعنی اس لڑکی کو نیا سونی کا لیپ ٹاپ دلانے کے لیے لایا تھا۔
خود ہمارے شاپ کے کفیل نے حال ہی میں حیدآبادی خاتون کو طلاق دے کر ایک سوریا کی خاتون سے چوتھی شادی کی ہے وجہ اولاد کا نا ہونا جس کے لیے وہ تین کو طلاق دے چکا چوتھی پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور تین بچوں کی ماں ہے مگر ابھی تک کی صورت حال پرانی ہی ہے۔
ہماری شاپ جس علاقے میں ہے وہ قدیم علاقہ ہے اور یہاں حیدرآبادی خواتین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔انکی اولاد بھی اب یہاں جوان ہو چکی ہے ۔
ان میں سے اکثر خواتین کے خاوند وفات پا چکے ہیں ۔ وجہ معلوم کرنے پر ایک حیدرآبادی دوست نے ہی بتایا کہ یہ خواتین دولت کے لیے شادی کرتی ہیں اور پھر یہاں آکر جادو ٹونہ کے ذریعے اپنے خاوند کو مروا کر ساری دولت کی مالک بن جاتی ہیں۔
یاد رہے یہاں حکومت بیوہ کو تا حیات خرچہ اور سہولیات دیتی ہے ۔
کچھ حیدرآبادی خاندان جو بہت کم ہیں یہاں خوشحال ہیں باقی سب کی حالت اتنی اچھی نہیں جو اس سٹوری کی سچائی ثابت کرتی ہے ۔
آخری بات کہ ان عربوں سے انہیں کچھ نہیں ملنے والا چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں جتنے مرضی ٹیسٹ کروالیں۔
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ایک انوکھی تلاش
عمر فاروق
بی بی سی ، حیدرآباد
ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں مقامی لڑکیوں کی شادی عرب شہریوں کے ساتھ کرائے جانے کی روایت ہے۔
حیدرآباد جب نظام کے دور میں علحیدہ صوبہ تھا اس وقت بھی عرب ممالک کے ساتھ اس کے خاص تعلقات تھے اور آج بھی حیدرآباد میں عربوں کی ایک الگ بستی ہے جو بارکس کے نام سے مشہور ہے۔
لیکن گذشتہ چار دہائیوں سے یہ شادیاں تنازعات کا شکار ہوتی رہی ہیں اور اب اس مسئلہ کا نیا پہلو سامنے آ رہا ہے۔
دراصل اب عربوں کے ان بچوں نے اپنے حق کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے جن کے والد انہیں اور ان کی ماؤں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے گئے اور کبھی لوٹ کر واپس نہيں آئے۔
حیدرآباد کے پرانے شہر میں رہنے والی رقیہ بیگم ان سینکڑوں خواتین ميں سے ایک ہیں جن کی شادی ایک عرب شہری سے ہوئی تھی۔
رقیہ کی شادی انیس سو ستتر میں دبئی کے ایک تاجر علی احمد محمد کلّی سے ہوئی تھی۔ رقیہ کے علاوہ علی محمد نے حیدرآباد میں مزید دو شادیاں کیں جب کہ دبئی میںان کی شادی ایک عرب خاتون سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ حیدرآباد میں علی کے کل چھ بچے ہوئے ہیں۔
سب کچھ صحیح چل رہا تھا لیکن علی محمد کے انتقال کے بعد دبئی میں علی محمد کے بچوں نے حیدرآباد میں اپنے سوتیلے بھائی بہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے پاسپورٹ بھی جلا دیے۔
رقیہ کہتی ہیں’گذشبہ بیس برس میں میرے بچوں نے کافی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ خراب حالات کے سبب انہيں تعلیم بھی حاصل نہیں ہو سکی، اگر ان کے دبئی جانے کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو میں بہت خوش ہوں گی۔‘
اکتیس سالہ ناصر جمال محمد گذشتہ دس برس سے شارجہ میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ ان کے والد جمال محمد نے یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے ناصر کی والدہ فرحت النسا سے شادی کی تھی لیکن وہ ناصر کو اپنے بیٹے کو طور پر تسلیم نہیں کرتے ہيں۔ انہوں نے ناصر سے اس بات کا ثبوت مانگا ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد فرحت نے دوسری شادی نہیں کی۔
ایک اور نوجوان سالم بن حمید بھی دبئی میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بے کار زندگی گزار رہا ہوں، میں آٹو رکشہ چلاتا ہوں، جب آمدنی ہو جاتی ہے تو کھانا کھا لیتا ہوں نہيں تو بھوکا رہتا ہوں۔ میری نانی نے میری والدہ کی دوسری شادی کروا دی۔ اب ان کی زندگی الگ ہے اور میں الگ، میرا کیا ہوگا مجھے نہيں پتہ۔‘
ایک اور نوجوان عبداللہ علی احمد کا کہنا تھا کہ ایک عرب کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہیں ہندوستان میں کوئی شناختی کارڈ بھی نہیں مل سکا ہے۔
ایک اور نوجوان یعقوب علی کا کہنا ہے ’مجھے بھی متحدہ عرب امارات کی شہریت چاہیے۔ یہ میرے والد کا حق ہے جو مجھے ملنا چاہیے۔ میں دبئی کے شیخ محمد بن راشد سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارت میں رہنے والے مجھ جیسے تمام بچوں کے سفر سے متعلق دستاویزات تیار کرائیں تاکہ وہ دبئی جا سکیں۔‘
لیکن اب متحدہ عرب امارات اور دبئی سرکار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ان بچوں کا حق تسلیم کریں گے جو مصر، لبنان اور بھارت ميں پیدا ہوئے۔ اس فیصلے نے ان بچوں کو پر امید کر دیا ہے۔
اس عمل کے تحت پچھلے برس اپریل میں دبئی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم ممبئی آئی اور ٹیم نے حیدرآباد سے ایسے بیس لڑکے اور لڑکیوں کو بلاکر ان کے ڈی این اے کی جانچ کروائی۔ لیکن گیارہ مہینے گزرنے کے بعد بھی دبئی سے کوئی جواب نہيں آیا۔
اس ٹسٹ کو سالم، منصور اور ناصر سبھی نے کروایا تھا اور انہیں امید ہے کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں انہيں انصاف ضرور دلائيں گی۔ لیکن دیگر عرب ممالک کے بے سہارا بچوں کے سامنے اس قسم کی کوئی امید نہیں ہے اور شاید بھارت سرکار کو ہی اس سمت میں پہل کرنا ہوگی۔
Posted by خرم ابنِ شبیر on March 16, 2010 at 3:05 am
یہ کیا کہانیاں لے کر بیٹھ گے آپ
Posted by ڈفر on March 16, 2010 at 10:44 am
سب سے پہلے تو آخری بات کی وضاحت کریں
Posted by اسماء پيرس on March 16, 2010 at 12:28 pm
قسم سے اس ڈفر اور جعفر سے بہت تنگ ہوں ميں،
Posted by Aniqa Naz on March 16, 2010 at 3:31 pm
عرب، اخلاقی طور پہ شاید دنیا کی پست ترین اقوام میں سے ہونگے۔ اول درجے کے عیاش، اس سے بھی زیادہ درجے کے دماغ کی ناکارگی کا شکار۔ اگر قدرت کی طرف سے انہیں تیل کا تحفہ نہ ملا ہوتا تو یہ کیا کرتے۔
Posted by راشد کامران on March 16, 2010 at 10:14 pm
میں عنیقہ صاحبہ سے اختلاف کروں گا کہ یہ کہنا کے تمام عرب عیاش ہیں یا تمام عرب دماغی ناکارگی کا شکار ہیں شاید ایک درست بیان نا ہو۔ ہاں ان کی اشرافیہ کی حد تک یہ بات درست ہوسکتی ہے لیکن ہماری اشرافیہ کے طور طریقے دیکھ کر یہ کہنا کہ تمام پاکستانی امارت، عیاشی اور خود سری کو انتہا پر رہتے ہیں تو یہ بھی درست نا ہوگا۔ میں کئی عرب لوگوں کو جانتا ہوں جو بہت محنتی، انتہائی ذہین اور سادہ زندگی گزارنے والے ہیں اور بالکل اسی طرح ان چیزوں پر نالاں رہتے ہیں جس طرح ہم ہیں۔
Posted by کامران اصغر کامی on March 17, 2010 at 1:45 am
راشد بھائی آپ کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر یہاں کیا کہانی ہے وہ بھی میں آپ کو سنا ہی دیتا ہوں تو سنیں !
حیدرآبادیوں کے علاوہ ایک اور قبیلہ جن کو بلوچی کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو مکرانی بھی کہلاتے ہیں یہاں آباد ہیں غالبا انکی دوسری یا تیسری نسل چل رہی ہے اور انکا یہ حال ہے کہ آج تک انکو اماراتی تسلیم نہیں کیا گیا ۔
انکے پاس نوکری نہیں اگر ہے تو تیسرے درجے کی انکی اپنی کوئی شناخت نہیں انکے پاس کوئی پاس پورٹ نہیں یہ کئی عشروں سے اس جگہ آذاد قیدی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔
ایک دن ایک بلوچی سے باتوں باتوں میں اس بات کا ذکر چھڑ گیا (حالاں کے یہ اس ٹاپک پر بات نہیں کرتے ) تو وہ اپنے حلات سناتے ہوئے رونے لگ گیا کہ میری کیا زندگی ہے کہ میں واپس اپنے علاقے مکران میں بھی نہیں جا سکتا ۔
اب ان عربوں کی سنیے انکے پاس ڈپلو میٹ پاس پورٹ ہیں امریکہ انگلینڈ اسٹریلیہ بغیر ویزہ کے جا سکتے ہیں کوئی چیکنگ نہیں ایسے کتنے ہی عرب لڑکوں کو میں جانتا ہوں جو صرف ان ممالک میں حکومتی پیسے پر تعلیم کے نام پر عیاشی کرتے ہیں ۔
بڑی گاڑی پانچ شادیاں آواز پیدا کرنے والا کپڑا ہزار درھم فی اونس والی خوشبو لگثری کئی کئی کنالوں میں پھیلے گھر گھر کے ہر فرد کی اپنی مہنگی سے مہنگیی گاڑی باتیں رئیسوں والی اپنی ذات اور عیاشیوں پر لاکھوں درھم خرچ کرنے والے جب ہم جیسوں کی شاپس پر آتے ہیں تو تیس درھم کے لیے حرام حرام کے نعرے لگاتے ہیں اور تیس درھم انکی جان نکانے والا فرشتہ بن جاتے ہیں ۔
Posted by کنفیوز کامی on March 16, 2010 at 4:43 pm
خرم کاکا :::::::::کہانی نہیں حقیقت ہے بچے سچی اور کھلی حقیقت۔
ڈفر :::::::::::::::: آخری بات سے مراد کہ کسی انصاف کی توقع کرنا بڑی بھول ہے ۔
اسما:::::::::::::: کی کرنا اینا دوناں دا ۔ اے لا علاج نے ۔
انیقہ ::::::::::::: بلکل ٹھیک پہچانا آپ نے یہی جواب ہو سکتا تھا ۔
Posted by ماموں on March 16, 2010 at 10:39 pm
حیدرآباد ہی وہ علاقہ تھا چہاں کی عورتوں نے اس وقت کے حکمراں (یا شاید تواب سے ایک وقت میں دو خاوند رکھنے کی اچازت طلب کی تھی – کیوں کی تھی؛ بتا دیا تو آپ یہ حدف کر دے گے-
Posted by حیدرآبادی on March 17, 2010 at 4:04 am
@ ماموں :
شعور آنے کے بعد سے تو مجھے کوئی پچیس سال بیت گئے حیدرآباد میں رہتے بستے اور یہاں کی تاریخ جغرافیہ اور تہذیب و ثقافت سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے ۔۔۔۔ مگر حیرت ہے کہ آج تک میں نے کوئی ایسا واقعہ نہ پڑھا اور نہ سنا کہ :: یہاں کی خواتین نے ایک وقت میں دو خاوند رکھنے کی اچازت طلب کی تھی ؟؟؟
ہاں مخالفین نے ایسے قصے کہانیاں گھڑ رکھے ہوں تو ایسا تو دنیا کا کوئی شہر یا گاؤں بچا ہوا نہیں ہے !
Posted by شاہدہ اکرم on March 17, 2010 at 12:05 am
کامی میرے تبصروں میں کُچھ مسئلہ ہے یا
Posted by کامران اصغر کامی on March 17, 2010 at 1:30 am
آپی جی آپ کے تبصروں پر جان بھی قربان ہوا یوں کہ جو سپیمر میاں ہیں نا انہوں نے آپ اور بلو کے تبصرے روک رکھے تھے میں نے یہ سب اپروو کیے تو بلو کے ہو گے مگر آپ کے جانے کہاں چلے گے اب یہ پتا نہیں کیسے بچ گیا ہے ۔ابھی بھی دیکھیں گیارہ سپیم دکھا رھا ہے مگر اندر کوئی سپیم والا تبصرہ نہیں ۔ اب اگر اس نے آپ کا تبصرہ روکا تو میں اسے پہلے فرصت میں ھٹا دوں گا وعدہ ہے ۔
Posted by حیدرآبادی on March 17, 2010 at 3:55 am
کچھ باتیں خلاف واقعہ ہیں۔
کامی صاحب ، آپ نے جو تجزیہ کرتے ہوئے یہ پانچ وجوہات بتائی ہیں کہ ۔۔۔۔
1: اول تو یہ حیدرآباد کی روایت ہے جو چلی آ رہی ہے ۔
2: ان کے علاقے میں غربت کا ذیادہ ہونا۔
3: عربوں کا اپنی دولت کا اثر ورسوخ ان پر چھوڑنا۔
4: شاید کچھ دولت کے لالچ میں آکر ایسا کرتے ہیں ۔
5: کچھ اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ۔
ان پانچوں وجوہات میں سے کوئی بھی صد فیصد درست وجہ نہیں ہے۔ ممکن ہے ایسا غلط تجزیہ لاعلمی کے سبب ہو۔
یہ سارے حیدرآباد کی نہیں بلکہ حیدرآباد کے ایک خاص علاقے کی روایت ہے۔ بی بی سی کی خبر میں حیدرآباد کے جس خاص “عرب” علاقے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں نظام شاہی دور سے بیشمار یمنی خاندان آباد ہیں۔ اور حیدرآباد دکن کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ “بارکس” کا یہ عرب علاقہ “غربت” سے متاثرہ ہرگز بھی نہیں ہے۔ یوروپ و امریکہ کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو وہاں کے کسی شاپنگ سنٹر پر نہ ملتی ہو۔
اس علاقے کی اپنی ایک خاص تاریخ اور اہمیت ہے۔ کچھ قبیلے ہیں جو آج بھی اپنی برادری سے ہٹ کر شادی نہیں کرتے اور اس سبب وہ عرب ممالک میں بسے اپنے ہم وطنوں کو ترجیح دیتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے سنا اور پڑھا ہے کہ پاکستان سے امریکہ ، کنیڈا ، برطانیہ منتقل ہونے والی نسل اپنی دوسری نسل کی شادی پاکستان میں بسنے والی نسل سے کرنے کی آرزومند ہوتی ہے کہ اپنی جڑوں سے تعلق برقرار رہے۔
جہاں تک کچھ نامناسب واقعات کا تعلق ہے تو کوئی بھی معاشرہ اس طرح کے واقعات سے بچا ہوا نہیں ہے۔
لیکن اب یہ ماضی کی بات ہو چکی ہے۔ پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی قانون بن چکا ہے کہ اس طرح کی شادیاں اب انجام نہیں پا سکیں گی۔ اس کے لئے کچھ سخت قسم کی پابندیاں لاگو کی جا چکی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایمبیسی کا تصدیق نامہ درکار ہوگا اور ایک سرکاری ادارے سے بھی اجازت لینی ہوگی۔ پہلے تو صرف قاضی صاحب کچھ رقم لے کر نکاح پڑھا دیا کرتے تھے۔
اصل میں کچھ نہایت غریب ماں باپ پیسے کی خاطر یا اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر انتہائی کم عمر لڑکیوں کی شادی کر دئے جا رہے تھے۔
دو دہائی قبل چند واقعات ایسے ہوئے کہ ائرپورٹ پر کچھ لڑکیاں روتی ہوئیں پکڑی گئیں جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ زبردستی لڑکیوں کو “بیچا” جا رہا ہے۔
یہ خبریں ملاحظہ فرمائیں :
Arab marries, then ditches Hyderabad girl 54 years younger
Poor muslim girls in hyderabad are cheated by arab sheikhs… a social problem
In the year 1991, 11 year old Ameena made the headlines when she was rescued by an airhostess from her 50-something Arab ‘husband’
Massarath, 14, married three Arabs within two months!
(ان الفاظ کے ساتھ گوگل تلاش کر لیں کیونکہ راست لنک دینے پر اسپیمنگ کا ایرر بتا رہا ہے)
تو ایسے واقعات جب پھیلتے اور وسیع ہوتے میڈیا کی نظر میں آنے لگے تو سیاستدانوں کو بھی ہاتھ سینکنے کا موقع ملا اور یہ ایشو اس قدر گرم ہوا کہ 90ء کی دہائی میں ہندوستان بھر کے اخبارات نے اس کو قومی مسئلہ بنا دیا۔ لہذا مرکزی حکومت کو قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا اور پچھلے کوئی آٹھ دس سال سے عربوں کی حیدرآبادی نوخیز لڑکیوں سے شادی کا معاملہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے !!
Posted by کنفیوز کامی on March 17, 2010 at 5:43 pm
بہت شکریہ حیدرآبادی بھائی آپکی وجہ سے بہت سی باتیں پتہ چلیں اور کچھ باتیں واضع ہو گئیں ساتھ ہی ساتھ میرے تجزیہ کو تسلیم کیا کہ ایسا ہوا تھا مگر اب نہیں ہو رھا اچھی بات ہے ۔
ایسے کسی بھی شخص سے پوچھا جاے تو وہ حیدر آباد کا نام لیتا ہے کسی خاص علاقے کا نہیں جیسے کسی ملواری سے پوچھا جاے تو وہ صرف ملیالے کا نام لے گا انڈیا کا نہیں ۔
باقی میرا کسی پر کیچڑ اچھالنے یا حتک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ایک زندگی کا تجربہ تھا جو شیئر کیا۔ اگر آپ کی دل آذاری ہوئی تو معزرت
Posted by SHUAIB on March 19, 2010 at 9:45 am
دور بیٹھے کچھ بھی سوچتے بولتے اور لکھ ڈالتے ہو، مگر یہ تو ہر کسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
کبھی اپنی بغلیں جھانک لیا کرو ۔