پچھلے چند مہینوں سے پریشانیوں کا ایسا سلسلہ چلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا ابھی تازہ ترین جھٹکے میں جو ہوا وہ کچھ یوں ہے ۔
ہم بھائی حسب معمول سارھے دس شاپ پر آگئے اور اپنے کل کے باقی کام نمٹانے لگے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا کہ چار لوکل عربی لباس میں ہماری شاپ میں گھس آئے اور ہم دونوں بھائیوں کو ایک طرف الگ ہونے کا کہا اور شاپ کی تلاشی شروع کردی ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر ایک بولا یہ سب کس کے ہیں ہم نے کہا یہ سب کسٹمرز کے ہیں ۔ ۔۔اچھا ابھی ہمارے افسر آئیں گے اور آپ کی تمام چیکنگ ہو گی۔
ہم نے کہا کس چیز کی چیکنگ ؟
آپ لوگ نقلی ونڈوز اور آفس انسٹال کرتے ہیں ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک اور پانچ اشخاص کا گروپ شاپ میں داخل ہوا اور شاپ میں موجود سب کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو چیک کرنے لگا ۔
یہ سلسہ ایک گھنٹے تک چلا ۔
ہمارا پرسنل اور ایک کسٹمر کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا ساتھ ہی شاپ پر موجود تمام سافٹ ویر بھی لے گئے ۔
اگلے دن ہمیں ٹریڈ سینٹر میں بلایا گیا اور پانچ گھنٹے تک بحث چلتی رہی ۔
آخری اظلاع تک ابھی تک کیس دبئی جا چکا ہے اور کوئی اطلاع نہیں کبھی کہتے ہیں صرف جرمانہ ہو گا کبھی کہتے ہیں جیل ہو گی جرمانے کی حد 10000 درھم سے لیکر 50000 درھم تک ہو سکتا ہے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک یا تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے ۔
اس دن سے لیکر آج دن تک کام دھندہ چوپٹ ہے بہت ٹینشن ہے دماغ کام نہیں کرتا
یاد رہے یہ آپریشن پورے شہر میں کیا گیا جہاں صرف گنتی کے 20 سے 25 دکانیں اس کام سے متعلق ہیں سب ہی کا کچھ نا کچھ پکڑا گیا ۔
7 Mar
Posted by ابن سعید on March 7, 2010 at 8:22 am
اوپن سورس سافٹوئیر کی ترقی کے حوالے سے ان کا یہ قدم انتہائی مفید ہو سکتا ہے اگر مناسب طریقے سے اس موقعے کا فائدہ اٹھایا جائے۔ اس موقع پر باسانی اوپن آفس سے لوگوں کو رو شناس کرایا جا سکتا ہے۔ جس حد تک آفس ورک عام آدمی کے اتعمال میں آٹا ہے اتنے تک کے لئے اوپن آفس میں کوئی مسئلہ نہیں۔
Posted by کنفیوز کامی on March 8, 2010 at 2:06 am
ابن سعید بھیاء اسی لیے میں نے اوپن سورس سافٹ وئیر کاا ستعمال شروع کر دیا ہے جس کی مثال ابنٹو کی انسٹالیشن اور اوپن آفس کا استعمال ہے میری پوری کوشش ہو گی کہ میں لوگوں کو اس طرف لاوں ۔لیکن پہلے مجھے خود ان سے روسشناس ہونا ضروری ہے ۔
Posted by ڈفر on March 7, 2010 at 9:26 am
ٹینشن مت لیں اللہ سے مدد مانگیں
وہ رحم کرے گا ان شا اللہ
Posted by Khawar on March 7, 2010 at 10:05 am
ابن سیعد کا مشورھ صائب هے اس پر غور هی نهیں عمل کرلیں
بہتر هو گا
انسٹال کرنے کی مزدوری لے لیا کریں
Posted by محمد ریاض شاہد on March 7, 2010 at 10:37 am
چوری شدہ مائیکرو سافٹ کے سافٹ ویر کے تجارتی استعمال کی حوصلہ شکنی مائیکرو سوفٹ کا ہدف ہے ۔ باقی گھریلو استعمال کرنے والوں کو انہوں نے کبھی نہیں روکا ۔ ورنہ اگر چاہتے تو نیٹ پر موجود تمام ایسے کمپیوٹر معطل کر دیتے ۔
Posted by بدتمیز on March 7, 2010 at 1:25 pm
آپ قران کی بے شمار آیات کا ترجمہ لکھ کر بھی ایسے سافٹ وئیر بیچ رہے تھے؟ اور پھر افسردہ بھی ہیں؟
Posted by کنفیوز کامی on March 8, 2010 at 2:09 am
مولانا بدتمیز صاحب کو ئی تشریح کردیں کہ دین کا مائیکرو سافٹ سے کیا تعلق ہے ؟
Posted by راشد کامران on March 8, 2010 at 12:05 pm
شاباش۔۔ اگر آپ کے سافٹ ویر پائریٹیڈ نہیں تھے تو کوئی معاملہ نہیں اور اگر آپ کے سافٹ ویر پائیریٹڈ تھے تو دین اور مائیکروسافٹ کا یہ تعلق ہے کہ آپ نے غیر قانونی چوری کے سافٹ ویر استعمال کیے۔۔ کسی ٹویوٹا شوروم سے اگر ایک گاڑی چرالی جائے۔۔تو جو ٹویوٹا اور دین کا تعلق بنے گا بالکل وہی تعلق یہاں بھی دین اور مائیکروسافٹ کا بنے گا۔
Posted by کنفیوز کامی on March 8, 2010 at 12:28 pm
لیکن راشد بھائی یہ تو دنیا کے ہر دوسرے کمپیوٹر میں موجود ہے صرف انکے نہیں ہو گی جو ڈالر کماتے ہیں اس سے میرے جیسے کئی انسانوں کا چولہا جلتا ہے اور کروانے والے کے بارے میں تو کچھ وضاحت فرمائیں ۔
Posted by omer on March 7, 2010 at 2:54 pm
am praying for you janab, Allah will do better.
Posted by کنفیوز کامی on March 8, 2010 at 2:12 am
ڈفر بھائی ۔۔۔۔شکریہ
خاور بھائی۔۔۔شکریہ
ریاض شاہد بھائی ۔۔۔۔ شکریہ
عمر لالے ۔۔۔۔ ضرور کرنا شکریہ
Posted by شاہدہ اکرم on March 8, 2010 at 2:23 am
کامی اللہ بہتر کرے گا ہم سب آپ کی پریشانی میں آپ کے لِئے دُعا گو ہیں کُچھ دِنوں میں فُجیرہ کا پروگرام بن رہا تھا سوچا تھا آپ سے اور جعفر سے بھی مُلاقات ہو گی لیکِن آپ کی پریشانی کا پڑھ کر بہُت گھبراہٹ ہو گئ ہے اور مُجھے تو اِس کا کوئ حل بھی نہیں پتہ دُعا کے سِوا کوئ راستہ نہیں نظر آتا اور دُعا میں بہُت طاقت ہوتی ہے اللہ بہتر کرے گا اِنشاءاللہ تعالیٰ
جو بھی حالات ہوں بتائیے گا ضرُور کہ کیا رہا؟؟؟
Posted by شاہدہ اکرم on March 8, 2010 at 2:27 am
ارے کامی میرا تبصرہ کہاں گیا؟؟؟
Posted by راشد کامران on March 9, 2010 at 12:28 am
میری وضاحت صرف اتنی سی ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں چوری دین میں جائز نہیں۔ اگر آپ اس بات پر قائل ہیں کہ سافٹ ویر پائریسی دراصل ویسے ہی چوری ہے جیسے کوئی بھی دوسری چیز تو پھر یہ سادہ مسئلہ ہے اور مزید وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں یہ پائیریٹڈ سافٹ ویر استعمال کرنا اور مدر بورڈ چرالینا دو الگ الگ چیزیں ہیں تو پھر معاملہ مختلف ہے اور وضاحت کرنا آسان نہیں۔۔۔ خاص کر کمرشل لیول پر تو یہ ویسے بری بات ہے کہ کسی چیز سے روزی کمائی جائے اور وہ ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی ہو وہ بھی ایسے دور میں جب متبادل آسانی سے اور مفت دستیاب ہیں۔۔ اگر دینی لحاظ سے آپ قائل نا ہوں تو بھی مملکت کے قوانین آپ کو اس کے غیر قانونی استعمال سے روکتے ہیں جو اکثر ممالک میں قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔
Posted by کنفیوز کامی on March 9, 2010 at 1:59 am
توسی مرواو گے
Posted by omer on March 10, 2010 at 3:56 am
راشد صاحب سے سو فیصد متفق ہوں۔۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاںچوری ایسی پینیٹریٹکر گئی ہے کہ کیا بتاؤں۔
دیکھیںاب کب تک سویسی مکمل طور پر کنفگر ہوتی ہے مجھ سے میری مرضی کے مطابق، تب تک تو یہی ونڈوز استعمال کرنی پڑے گی ناں
کل کی بات لیجیے، میرا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا تھا، نیا لینے کے لیے گیا توجناب یہاں اسلام آباد میںکسی کے پاس نیا لیپ ٹاپ بھی اوریجنل ونڈوز وغیرہ کے ہمراہ نہیںملا۔۔۔۔۔۔ چور ہیںسارے، پہلے ہی نکال کر بیچ دیتے ہیں۔
اب میںلے تو آیا ہوں۔۔۔۔۔ اور آتے ہی ونڈوز کے ساتھ ساتھ لینکس سویسی کر دی ہے، ونڈوز اوریجنل نہیںہے
Posted by خرم ابنِ شبیر on March 13, 2010 at 2:00 am
یہ کب کا چکر ہے یار ہمیں تو پتہ ہی نہینویسے ابوظہبی شہر میں بھی ایک دو چھاپے پڑے ہیں اور لوگوں کو پکڑا ہے زیادہ طر تو جرمانہ ہی کیا جا رہا ہے
ہم بھی یہی کام کرتے ہیں کافی کوشش کرتے ہیں سیف سائیڈ کی لیکن کیا پتہ کب بُرا وقت آ جائے اس لیے کچھ اصلی سی ڈیز رکھی ہوئیں ہیں ونڈو کی اللہ اللہ خیرصلہ باقی دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو مشکل سے نکالے اور ہمیں مشکل سے بچائے رکھے آمین
Posted by کنفیوز کامی on March 13, 2010 at 2:07 am
ارے نہیں کاکا دو نمبر ونڈو کا ستعمال بند کردو ہم نے بھی کردیا ہے اگر پکڑے گے تو سخت جرمانے کا سامنا ہوگا اور کچھ ضبط بھی ہو سکتا ہے ۔ہمارا بزنس کچھ کم ضرور ہو گیا ہے مگر لگتا ہے کہ ایک نیا اچھا وقت بھی شروع ہو رھا ہے ۔
Posted by خرم ابنِ شبیر on March 16, 2010 at 3:18 am
جی کامی بھائی میں تو کوشش کرتا ہوں ایسا ہی کروں لیکن باس کا کیا کیا جائے باس کا حکم چلتا ہے نا میں ان کو سمجھاؤں گا یہ بات تفصیل سے بتاؤں گا پھر انشاءاللہ بہتر ہو جائے گا
Posted by محمد سعد on March 13, 2010 at 6:18 pm
السلام علیکم۔
اور نہیں تو کم از کم آپ کے لیے اب (مکمل طور پر حلال کاروبار کی طرف) تبدیلی کا عمل زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو تبدیلی کی تیاری فوراً شروع کر کے اس کو اپنے فائدے میں بدل سکتے ہیں۔
انسان کی نظر بڑی کمزور ہے۔ اکثر اوقات کسی واقعے کے نتیجے میں ہونے والا اپنا فائدہ آسانی سے نظر نہیں آتا۔ ہاں البتہ دوسروں کا نظر آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ آپ اس واقعے سے اچھا خاصا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایک بار ایک واقعہ پڑھا تھا کہ کسی شخص کی دکان جل گئی۔ اس نے بجائے ہمت ہار کر بیٹھ جانے کے دکان کو نئے سرے سے تعمیر کیا اور باہر بورڈ لگا دیا۔ “یقین جانیے، پورے شہر میں صرف یہی دکان ہے جہاں صرف اور صرف تازہ مال پڑا ہے۔” لوگ جانتے تھے کہ یہ دکان حال ہی میں جل کر نئے سرے سے تعمیر ہوئی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں گاہکوں کی ایسی بھیڑ لگ گئی کہ پہلے کبھی نہ لگی تھی۔
امید کرتا ہوں کہ اس واقعے سے آپ بھی کافی کچھ سیکھیں گے۔
والسلام۔
Posted by کنفیوز کامی on March 14, 2010 at 2:50 am
شکریہ سعد ہمت افزائی کا واقعی میں نے اس بات کا اظہار اوپر خرم کے جواب میں بھی کیا ہے واقعی شاید جو کچھ ہوا اچھا ہوا کچھ پریشانی ضرور ہوئی مگر اب کام دوبارہ چلنا شروع ہو گیا ہے آج پہلا مکمل اوریجنل ونڈوز کے ساتھ پہلا پی سی تیار کرتے ہوے بھی میں یہی سوچ رھا تھا کہ دیر سہی مگر پھر سے وہی رونق ضرور آئے گی دل کو بھی ایک عجیب سا اطمینان ملا ہے ۔ بہت شکریہ
Posted by ابن سعید on March 14, 2010 at 6:24 am
آپ کے علم میں یہ بات بھی لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ونڈوز کے لئے بھی اوپن سورس سافٹوئیر دستیاب ہیں اور بکثرت دستیاب ہیں۔ مثلاً مائکروسافٹ آفس کا بدل اوپن آفس، فوٹو شاپ کا بدل گمپ وغیرہ۔ یعنی آپ اپنے کلائنٹس کی وندوز مشینوں پر حلال اور جائز مفت اوپن آفس انسٹال کر سکتے ہیں۔ اور اس وضاحت کے بعد کہ یہ مائکروسافٹ آفس جتنا فینسی تو نہیں پر سارے کام کر سکتا ہے، اور لائسنس کا بھی مسئلہ نہیںتو ہر عام صارف بخوشی قبول کر لیگا۔ اور چونکہ آپ کا رسک فیکٹر کم ہوگا اس لئے کم اجرت پر بھی کام کرکے اچھا منافع کما سکتے ہیں۔
Posted by کنفیوز کامی on March 16, 2010 at 4:45 pm
بلکل اب سعید :::::::: اب کچھ ایسا ہی چل رھا ہے آپ کی معلومات کا شکریہ ۔