حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔
حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
Posted by محمداسد on March 5, 2010 at 10:42 am
پیسہ صرف وقتی مرہم تو ثابت ہوسکتا ہے لیکن کل وقتی نہیں۔ دراصل ہمارے حکمرانوں کو عادت سی ہوگئی ہے، وہاں کوئی دھماکہ ہوا امداد کا اعلان، ادھر کوئی حادثہ ہو امداد کا اعلان۔ اور تو اور قدرتی آفت مثلاَ زلزلہ آجائے تو امداد کا اعلان۔ یہ خود اتنے بڑے بھکاری ہیں کہ انہیں ہر مسئلہ کا حل پیسہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا
Posted by کنفیوز کامی on March 5, 2010 at 2:29 pm
اسد اسی بات کا تو رونا ہے کہ کہیں یہ پیسے دینے والا کام غلط تو نہیں بھوکی عوام کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا ایک طریقہ
Posted by ڈفر on March 5, 2010 at 3:36 pm
پیسہ یہ کونسا اپنی لوٹی دولت سے دیتے ہپیں؟
جو بچی کھچی ہے اسی میں سے بانٹا جا سکتا ہے
ایک تو ہمااری قوم بھی بڑی ۔۔۔ ہے
مجال ہے جو کوئی بات ”مسوس“ کر لے
اور جب تک اس نے مسوس نی کرنا جب تک کوئی تبدیلی نہیںآنی
مطلب مثبت تبدیلی
ورنی حالات اس سے بھی بد تر ہوتے جائیں گے
Posted by کنفیوز کامی on March 6, 2010 at 1:58 am
ڈفر پاء اسی لیے مسوس نہیں کرتے کہ حکومتی بے حسی کا ٹیکہ لگوا چکیں ہیں ۔
Posted by بلوُ on March 5, 2010 at 8:45 pm
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
ان سوالات کا کوئی جواب نہیں بلکہ یوں کہہ لیں کے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کا جواب دے سکے۔
Posted by افتخار اجمل بھوپال on March 5, 2010 at 9:33 pm
سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے
سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی
Posted by کنفیوز کامی on March 6, 2010 at 1:59 am
بلو ۔۔۔۔ واقعی
اجمل صاحب ۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔
Posted by خرم ابنِ شبیر on March 7, 2010 at 3:48 am
بلکل کامی بھائی آپ نے درست فرمایا ہے میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ پیسے دے کر اپنی جان بچا لی جاتی ہے
Posted by بلوُ on March 7, 2010 at 10:41 pm
اور اپیسے لینے والے کو بھی تو دیکھو بس چپ ہو کر بیٹھ جاتا ہے
ہم نے خود ہی خراب کیا ہے ان لوگوں کو