میرے پسندیدہ :۔

ہے کوئی عقد ثانی کا شوقین ؟
میرے مشاہدے میں آیا کہ عوام الناس میں ایک عجیب پرمسرت اور شادماں لہر دوڑ رہی ہے…چہرے خوشی سے تمتما رہے ہیں اور بات بے بات پر قہقہے لگائے جا رہے ہیں اور جمہوریت کی توصیف میں پل کے پل باندھے جا رہے ہیں کہ واہ صاحب یہ صرف جمہوریت ہی ہے جس کے صدقے میں دل کی بات بے دھڑک کہہ دی جاتی ہے…عوام کے دلوں میں جو امنگیں ہیں انہیں زبان مل جاتی ہے ورنہ آمریت میں تودل کی دل ہی میں رہ جاتی ہے …
البتہ میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جو مسرت اور شادمانی کی لہر ہے یہ صرف مرد حضرات کے چہروں پر نہ صرف دوڑ رہی ہے بلکہ سرپٹ بھاگی جا رہی ہے لیکن خواتین اس دوڑ میں ہر گز شامل نہیں ہیں حالانکہ اپنی نسیم حمید نے تو دوڑ دوڑ کر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور یہ جو خواتین ہیں ان کے چہرے تو پہلے سے زیادہ غصیلے اور پر جوش ہوگئے ہیں اور ان میں میری اہلیہ محترمہ کا چہرہ بھی شامل ہے…چنانچہ یہ عقدہ مجھ سے نہ کھلا کہ آخر صرف مرد حضرات ہی کیوں دمکتے پھرتے ہیں اور جمہوریت کے گن گاتے چلے جاتے ہیں…
یہاں تک کہ صبح کی سیر کے میرے ساتھی بابا جات بھی چمکتے پھرتے ہیں کہ واہ صاحب جمہوریت کی کیا بات ہے دل خوش کردیا ہے… میں نے ایک ایسے ہی دوست بابا جی سے اس سلسلے میں مدد چاہی کہ بابا ان دنوں مرد حضرات تو خوشی سے دیوانے ہو رہے ہیں لیکن خواتین نہایت خونخوار ہوتی جاتی ہیں اس کا کیا سبب ہے تو انہوں نے مجھے ایک پرمسرت دھپ رسید کرتے ہوئے کہا…تارڑ صاحب آپ کو حالات حاضرہ کا کچھ علم نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے…
جناب پنجاب اسمبلی کی ایک محترمہ ممبر صاحبہ نے باقاعدہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ بیان دیا ہے کہ خواتین سرپلس ہو رہی ہیں اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ مرد حضرات فوری طور پر دوسری یا تیسری شادیاں کرلیں… یوں مسئلہ حل ہو جائے گا… بلکہ انہوں نے انتہائی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر نامدار کو بھی یہی مشورہ دیا ہے کہ بے شک آج شام سے پہلے پہلے دوسری بیوی کرلو مجھے کچھ اعتراض نہ ہوگا… تارڑ صاحب یہ سب جمہوریت کی کرامت ہے ورنہ آج تک کبھی کسی نے مردوں کے دفن شدہ جذبات کی یوں کھلے عام نمائندگی نہیں کی تھی… بھلا آپ ہی بتایئے کہ دنیا میں وہ کونسا مرد ہے جس کی باچھیں عقد ثانی کے نام پر کھل نہیں جاتیں اور دل میں لڈو نہیں پھوٹتے…میں تو آئندہ انہی خاتون کو ووٹ دوں گا چاہے یہ الیکشن میں کھڑی ہوں یا نہ ہوں…
اس دل پذیر خبر سے مجھ پر بھی ایک نہایت مسرت آمیز کیفیت طاری ہوگئی‘ میرے دل میں تو اتنے ڈھیروں لڈو پھوٹے جیسے وہاں مٹھائی کی دکان کھل گئی ہے… عقدثانی‘ دوسری شادی‘ ایک اور بیوی… ظاہر ہے موجودہ بیگم سے قدرے کم سن ہو تو بہتر ہے‘ ورنہ اس عمر کی ایک اور بیگم گھر میں لانے سے فائدہ… ذات پات کی کوئی قید نہیں‘ بے شک زیادہ خوبصورت نہ ہو‘ جہیز کامطالبہ بھی نہیں کیا جائے گا…روٹی کپڑا اور مکان مہیا کیا جائے گا‘ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں کہ پہلے والی تعلیم یافتہ ہے تبھی تو ٹکا سا جواب دیتی ہے اور میری تحریروں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتی رہتی ہے… اور ہاں یہ جو مارے خوشی کے یہ کہہ گیا کہ ذات پات کی کوئی قید نہیں تو اسے درست کر لیجئے کہ دوسری بیگم کچھ بھی ہو راجپوت نہ ہو کہ اسے تو ہم ایک عرصے سے بھگت رہے ہیں
عقد ثانی ایک ایسا منتر ہے جو ہر مردکے دل کے دروازے کھٹاک سے کھول دیتا ہے‘ دوسری شادی مرد کے کانوں میں رس گھولتی اس کی روح کو سرشار کردیتی ہے ایک اور بیوی کا تصور ایسا ہے کہ ہر جانب غنچے کھلنے لگتے ہیں صحرا میں بہار آجاتی ہے اورہولے سے باد نسیم چلنے لگتی ہے…ہندوؤں کے کسی وید میں درج ہے کہ اگر کوئی مرد جو بہت بوڑھا ہو اور اتنا بیمار ہو کہ اس کے بچنے کی کوئی امیدنہ ہو‘ کوئی دوا اثر نہ کرے کوئی دعا قبول نہ ہو اور وہ آخری سانسوں پر آجائے تو ایک نوجوان کنیا لے آیئے اور وہ جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرے کہ… میں تمہارے لئے ہوں… مجھے پکڑ لو… اگر تو اس قریب المرگ بابا جی میں کچھ سکت ہوگی تو وہ فوراً چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھیں گے اور کنیا کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے اور ان کی جان بچ جائے گی… اور اگر بابا جی اس پیشکش پر بھی نہ اٹھیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ پرلوک سدھار چکے ہیں…
دراصل ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندو ثقافت کے غلام ہیں کہ ان کے ہاں دوسری شادی کو پاپ سمجھا جاتا ہے جب کہ اپنے برادر مسلم ملکوں کی جانب نگاہ کیجئے کہ وہاں دو تین بیویاں تو معمول کی بات ہیں یعنی اگر پلے میں مال پانی ہو تو…بلکہ وہ ہم پاکستانیوں پر اکثر ترس کھا کر کہتے ہیں کہ اچھا تو آپ کی صرف ایک بیوی ہے… ہائے ہائے آپ تو مسکین ہیں‘ آپ پر ترس آتا ہے…
جدہ کے ایک کمپاؤنڈ میں ایک موٹے تازے صاحب سے ملاقات ہوئی جن کی پتلون ان کی توند سے مسلسل کسک جاتی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ائیر فورس میں ہیں‘ ہر ہفتے کہیں غائب ہو جاتے تھے اور دو ہفتوں کے بعد نمودار ہوتے تھے… میں نے پوچھا تو کہنے لگے اپنی دوسری بیوی کے پاس بیروت گیا تھا
میں نے رشک کے مارے لوٹ پوٹ ہوتے کہاکہ سبحان اللہ آپ کی دو بیویاں ہیں تو کہنے لگے نہیں تین ہیں‘ تیسری میری خالہ زاد ہے گاؤں میں رہتی ہے … بلکہ انہی دنوں ایک دلچسپ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب میں اکٹھی تین خواتین نے بیک وقت ایک وین ڈرائیور سے شادی کرلی… ان کا کہنا تھا کہ یہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں اور نامحرم کے ساتھ بھی نہیں بیٹھ سکتیں چنانچہ ہم نے اس وین ڈرائیور سے اس لئے شادی کرلی کہ یہ ہمیں روزانہ اس سکول میں چھوڑ آیا کرے گا جہاں ہم تینوں کام کرتی ہیں…
قصہ مختصر جب میرے دوست بابا جی نے مجھے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کا یہ بیان سنایا کہ مردوں کو دو دو شادیاں کرنی چاہئیں تو میں دل ہی دل میں عقد ثانی کی منصوبہ بندی کرتے نہایت مسرت آمیز کیفیت میں گھر پہنچا اور بیگم کو ان کے روح پرور بیان سے آگاہ کرکے دوسری شادی کے لئے یو نہی سرسری سی آمادگی ظاہر کی‘ اس کے بعد چراغوں میں توکیا سرچ لائٹوں میں بھی روشنی نہ رہی بیگم جو ماشاء اللہ نماز روزے کی پابند ہیں یکدم راجپوت ہو کر پرتھوی راج چوہان کی مانند گویا تلوار سونت کر کھڑی ہوگئیں…
میرے ساتھ جو ہوا اس کی تو خیر ہے وہ تو ہوتا ہی رہتا ہے لیکن انہوں نے پنجاب اسمبلی کی رکن خاتون کی شان میں بھی گستاخیاں کیں اور ان میں چڑیل جیسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے کہ پہلے تو اپنے میاں کی دوسری شادی اپنے ہاتھوں سے کرے اور سوکن کو ہار پہنا کر اپنے گھر لائے اور پھر دوسروں کے خاوندوں کو یہ پٹی پڑھائے… میں نے اسے خبردار کیا کہ ایسی زبان استعمال کرنے سے اس خاتون ممبر کا وہ مجروح ہو جائے گا جسے استحقاق کہتے ہیں لیکن اس نیک بخت نے پھر بھی مزید گستاخیاں کیں… میں اس اسمبلی ممبر خاتون سے جس نے نیک نیتی سے مشورہ دیا تھا صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یا تو اسمبلی میں جو کچھ بیان دیں اسے قانونی شکل دے کر اس پر زبردستی عمل کرائیں ورنہ ایسے خالی خولی بیان دے کر ہمارے دل میں پھوٹنے والے لڈؤں کی فیکٹری لگا کر فوراً ہی ہمیں بیویوں کے ہاتھوں زدوکوب نہ کروائیں…اور ہاں آئندہ کسی محفل میں میری بیگم کے سامنے آنے سے گریز کیجئے گا یہ آپ کے بھلے کی بات کہتاہوں۔
Dated : 2010-02-25 00:00:00
Posted by Aniqa Naz on March 1, 2010 at 6:57 am
عقلمند کو اشارہ کافی۔
Posted by کنفیوز کامی on March 2, 2010 at 2:11 am
لگتا ہے آپ کے دل کو لگی ہے ۔
Posted by ڈفر on March 1, 2010 at 9:48 am
چھوڑ یار لاٹری تو ان بابوں کی نکلی
ہم تو عقدِاول کے لئے عقدے پہ عقدہ سلجھائے جا رہے ہیں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی
Posted by کنفیوز کامی on March 2, 2010 at 2:12 am
سنا ہے عراق میں کافی آسامیاں خالی ہیں ۔
Posted by ڈفر on March 2, 2010 at 10:12 am
یار یہ اسامیاں ٹیمپریری ہوتی ہیں
اور میرے جیسے “کرائی ٹیریا” پہ پورے بھی نہیں اترتے
Posted by محمد سعید پالن پوری on March 1, 2010 at 2:28 pm
اس پر معذرت کہ تبصرہ ہٹا ہوا ہے
کامی بھائی مجھے مستنصر صاحب کے ناول بھائو کی تلاش ہے۔ آپ کے علم مین کوئی ایسا لنک ہے جہاں سے میں اس کو ڈاؤن لوڈ کرسکوں؟
Posted by اسماء پيرس on March 1, 2010 at 6:17 pm
کامی کو اپنے آپ کا نہيں پتہ ہوتا تو کتاب اور وہ بھی مستنصر حسين تارڈ کی
Posted by کنفیوز کامی on March 2, 2010 at 2:14 am
باجی میرا سارا دھیان ان دو پیاری بچیوں کی طرف ہے اور آپ مجھے ہی لتاڑ رہی ہیں ۔
Posted by عمر احمد بنگش on March 1, 2010 at 4:14 pm
وہ یوفون کا ایک اشتہار بھی اسی سلسلے میںچل رہا ہے آجکل کبھی دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Posted by اسماء پيرس on March 1, 2010 at 6:16 pm
اب ہم يہاں بيٹھ کر يو فون کا اشتہار کہاں سے ڈھونڈيں جناب
Posted by کنفیوز کامی on March 2, 2010 at 2:20 am
یو فون کے کونسے اشتہار کی بات کر رہے ہو لالہ وہ تو ہر ہفتے نیا اشتہار بناتا ہے
اسماء باجی یو فون یو ٹیوب پر دستیاب ہے ۔