پیار کا دھوکا


پھر سے پیار کا دھوکا کھایا جا سکتا تھا
دل کا کیا ہے دل تو بہلایا جا سکتا تھا

کیوں واپس نہ آیا جا کر وہ جانے
لیکن اس کے پاس تو جایا جا سکتا تھا

گر نہ ہوتا موم کی صورت دل اپنا
غم کے سورج سے ٹکرایا جا سکتا تھا

ایک تمھارا ساتھ اگر مل جاتا تو
ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا تھا

لوگوں نے مجرم ٹھرایا مان لیا
آخر کس کس کو سمجھایا جا سکتا تھا

 

لے ڈوبا جب آنکھوں کو طوفان بتول
کیسے دل کا شہر بچایا جا سکتا تھا

شاعرہ ” فاخرہ بتول “
سلیکشن ” کامی “

11 responses to this post.

  1. آخری سے پہلے والی تصوير آصف زرداری کا اصل رُوپ پيش کرتی ہے

    Reply

  2. اتنا کچھ کہہ دینے کے بعد بھی کامی
    آصف کو جوتا لگایا جا سکتا تھا

    Reply

  3. مجھے بالکل ہمدردی ہے پوری قوم سے اور اپنے آپ سے :twisted:

    Reply

  4. Posted by اسماء پيرس on February 26, 2010 at 6:19 pm

    کامي صاحب ميں نے اپنی دو بچيوں کے ليے ووٹ کی اپيل کی تھی جسے آپ لوگوں نے سنی ان سنی کر ديا بھيج رہی ہوں اپکے کمپيوٹر سے کم از کم دس ووٹ ضرور آنے چائيے چاہے اپنے سارے ايميل ايڈريسز سے ڈاليں يا گھر والوں سے بھی ڈلوائيں مذيد اگر دوستوں کو بھی ووٹ ڈالنے کو کہيں لنک بھيج کر تو عين نوازش ہو گی
    http://www.kiabi.com/casting?id=377413

    http://www.kiabi.com/casting?id=378290

    باقی تو آپ سمجھ جائيں گی تيسرے اور چوتھے خانہ ميں اپنا دوسرا اور پہلا نام لکھنا ہے اميج کاپی کرتے ہوئے سمال کيپٹل کا خيال رکھنا اور آخر ميں ووٹ پر کلک کرنا ہے چليں اب جلدی سےووٹ ڈاليں کم از کم دس عدد ميں انتظار کر رہی ہوں

    Reply

    • اسماء بہن جی میں نے پہلے بھی ووٹ ڈالے تھے اب بھی جتنے کہے گئے اس سے ذیادہ ڈالے اور آئیندہ بھی ووٹ کاسٹ کرتا رھوں گا بس تھوڑا ٹائیم کا پرابلم ہے ۔
      بلو بلا کہاں ہے ۔

      Reply

  5. بہت اچھا

    Reply

  6. Posted by اسماء پيرس on February 27, 2010 at 6:10 pm

    بہت شکريہ کامی اچھا تو جناب کامی صاحب ہيں جنہوں نے پہلے بھی صرف حفضہ کو ووٹ ڈالے تھے اور اب بھی ، بھائی جان ہم نے آپکی طرح منصوبہ بندی نہيں کری ہوئی کہ پہلے کہ پانچ سال بعد دوسرا، ہمارے ہاں تعداد کافی زيادہ ہے ذرا اور ہمت کريں ويک اينڈ پر اور جن ايميل پتوں سے حفضہ کو ووٹ ڈالے ہيں وہ طيبہ کے ليے بھی چل جائيں گے ٹائم تو لگ رہا ہے مجھے احساس ہے مگر طيبہ کو بھی ضرور ڈاليے گا ميں نے کونسا روز آپکو ووٹوں کے ليے کہنا ہے اور بلو بلا ميرے مامے کے پتر ہيں جو مجھ سے آپ انکا پتہ پوچھ رہے ہيں ميں تو خود انکو تلاش کر رہی ہوں

    Reply

  7. ہا ہا ہا ۔۔۔ بلو بلے کا تو پکا پتا نہیں کہ وہ انسان بھی ہیں کہ نہیں آپ کے مامے کے پتر کیسے ہو سکتے ہیں :razz: دراصل وہ بلو کے بکس میں لکھنے تھے ۔

    Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.