بلاگی دھشت گردی ؟


میں اپنے آپ کو اس بلاگستان کا سب سے کرخت بلاگر سمجھتا تھا اسی وجہ سے لیڈیز بلاگر میرے بلاگ سے دور بھاگتی ہیں مگر اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میں اتنا برا نہیں جتنا مجھے سمجھا جارھا ہے مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی ہے میں بات کرنا چاھ رھا ہوں ان کمنٹس کی جو شاہدہ آپی کے بلاگ پر کیے گے۔
آجکل بلاگ پر بہت ہی غلط قسم کے لوگوں کا آنا جانا ذیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غلط اور بے ہودہ قسم کے تبصرے ذیادہ کیے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو جیسی تربیت ہو گی ویسی ہی سوچ ہو گی مگر تبصرہ کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ اور پڑھ لینا چاہیے کہ کس کے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ہوں اور کیا لکھ رھا ہوں ۔
شاہدہ آپی کے بلاگ پر ہونے والے تبصرے میں نے پڑھے تو نہیں مگر تانیہ بہن کے بلاگ پر ایسے تبصرے میری نظر سے گزرے تھے جہاں تانیہ بہن نے شاہدہ آپی کی طرح پورے صبر اور تحمل کے ساتھ کام لیتے ہوئے نا صرف ان تبصروں کو پبلش کیا بلکہ انکا بھر پور جواب بھی دیا ۔
کسی لیڈیز یا جینٹس بلاگ پر ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس قسم کی حرکت کرنے والا اپنا تو نقصان کرے گا ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ بھی نکالے گا اللہ تعالی ہر ماں باپ کو ایسی اولاد سے بچائے جو انکی عزت کا دشمن بن جائے ۔
آپ سب حضرات کی خدمت میں خصوصاٌ اردو بلاگ کی انتظامیہ کے گوش گزار کروں گا کہ وہ کوئی ایسی صلاحیت پیدا کریں کہ جس سے نامعلوم لوگ کسی بھی بلاگ پر تبصرہ نہ کر سکیں جب تک کہ وہ ای میل ایڈریس اردو بلاگز پر رجسٹر نہ ہو جائے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔
یہ آپ اور میرے لیے چیلنج ہے کہ اپنی ماں بہنوں جیسی ہستیوں کو ان گٹر کی گندگی جیسے لوگوں سے محفوظ کریں ۔
شکریہ کامی

19 responses to this post.

  1. کامران بھائی اس قسم کی دہشت گردی فورم، ذاتی پیغام اور اب بلاگ تبصروں تک میں نظر آںے لگی ہے۔ جب جب ننگ انسانیت مجروح ہوتی ہے یا کسی کے عزت نفس کا جنازہ نکلتا ہے یا کوئی بد اخلاقی کی عمیق گہرائیوں میں گرتا ہے جہاں سے اس کے گرنے کی گونج بھی واپس نہیں آتی تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ضزباتی تقریر اپنی جگہ پر میں وحدہ لا شریک کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھ جیسا غیر مشتعل مزاج رکھنے والا شخص بھی مٹھیاں بھینچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    آپ نے جس تکنیکی حل کی بات کی ہے اس کا طریقہ کم از کم ورڈ پریس میں موجود ہے۔ بس تبصرے کی ترتیبات میں جا کر تبصرہ کرنے کے لئے رکن ہونا اور لاگن ہونا ضروری کرنا ہوتا ہے۔ پھر سارے صارفین کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر اس بلاگ کے وزیٹر کے طور پر ریجسٹر ہوں جہاں تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ترکیب تبصروں کی تعداد بری طرح متاثر انداز ہوتی ہے۔ نیز ہر کسی کو ہر بلاگ پر ریجسٹر ہونا پڑتا ہے۔ ہر جگہ لاگن ہونے کی مصیبت کا ایک حل اوپن آئی ڈی کا استعمال ہے۔

    بہر بذرگوں کو کہتے سنا ہے کہ:

    کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی اپنی چال چلتا رہتا ہے۔

    Reply

  2. ورڈ پریس والا سلسلہ مبصرین کیلئے تکلیف دہ ہے کیونکہ ہر کسی کے پاس بلکہ اچھے مبصرین کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا کہ وہ یہ فارم پُر کریں میں نے دُشنام طرازی کرنے والے ایء شخص کو بلاک کیا ہوا ہے مگر اُس کی وجہ سے کچھ اور مبصرین بھی بلاک ہو جاتے ہیں ۔ اسلئے میں بلاک شدہ تبصرے دیکھتا رہتا ہوں اور ان میں جو بے شک میری ذات کے خلاف ہوں مگر تہذیب سے گرے نہ ہوں اُن کو بحال کر دیتا ہوں

    Reply

  3. بھائیوں بلاگ کر اخبار یا ٹی وی نہ بناو ۔ ہمارے ابلاغی ذریعے پہلے ہی سینسرشپ کے مرض میں‌مبتلا ہے ۔ آُپ کسی کا بھی تبصرہ نہ روکے اگر کوئی برا تبصرہ کرے گا تو اس سے اس کی شخصیت کی عکاسی ہوگی۔ گالم گلوچ کو اپنے کمنٹ ایڈیٹ سیکشن میں‌ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔

    Reply

  4. Posted by کنفیوز کامی on January 29, 2010 at 3:08 pm

    ابن سعید بھائ بہت شکریہ آپ کی بات درست ہے مگر اجمل صاحب کی بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے مجھے ذاتی طور پر پاس ورڈ لگانا اور لاگ ان ہو کر کمنٹ کرنا پسند نہیں جیسا بلاگ سپاٹ پر ہوتا ہے مگر میں وہاں اپنا پورا نام ضرور چھوڑتا ہوں تلخابہ صاحب بات صرف گندے لوگوں کے لیے ہو رہی ہے جن کا آپ بھی ذکر فرما رہے ہیں۔

    Reply

  5. کامران بھائی اس پر ایک دفعہ میں نے بھی تفصیل سے پوسٹ‌کی تھی۔۔ آپ نوٹ کریں گے کہ مبصر جتنا انقلابی اپنے آپ کو ظاہر کریں گے اتنی ہی زیادہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اور اکثر غیر معروف یا گمنام تبصروں کا الیکٹرانک ڈی این اے اپنے بلاگ پر چیک کریں تو پتا چلے گا کہ اکثر ایک ہی سلسلے میں بیعت کیے ہوئے ہیں۔ دیکھیں جیسا کہ کئی دوسرے لوگوں نے رائے دی کہ یہ ذہنی بیماری کی علامت ہے اور بیمار کی باتوں پر انسان صرف صبر کرتا ہے اور اللہ سے شفا کی دعا کرتا ہے اور اپنی طرف سے جو بن پڑے دوا کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں‌ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے چکر میں اپنے بلاگ کو بگاڑنے سے بہتر ہے کہ ان کو نظر انداز کردیا جائے۔۔ اکثر ان تبصروں کا مقصد غیر ضروری اور اختلافی نوعیت کے مسائل پر تیل ڈالنا ہوتا ہے اگر اردو بلاگنگ کے لوگ اس طرح‌ کے تبصروں‌ کو پہچان پر اس پر اپنا رد عمل محدود کردیں‌ تو شاید کافی افاقہ ہو۔

    Reply

  6. بعض لکھنے اور پڑھنے والے بلاگ کو ہائیڈ پارک تصور کرتے ہیں۔ جہاں جو منہ میں آئے لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان لفظوں سے خود ان کی تعلیم و تربیت کا پول کھل جاتا ہے۔ ایسے میں سونے پہ سہاگا چور دروازے یعنی نامعلوم شناخت کا استعمال۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ بلاگ انتظامیہ کو کوئی ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے جس سے ان بلاگی دہشتگردوں اور بلاگی دراندازوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ لیکن بات پھر وہی آجاتی ہے کہ ہر ایک کا اپنا بلاگ ہے، وہ جو چاہے قانون رکھے۔ ایسے میں متفقہ طریقہ ممکن نظر نہیں آتا۔

    Reply

  7. شکریہ راشد بھائی اور محمد اسد بھائی تو ٹھیک ہے آج کے بعد انکو ” کتا ” ہی کہا کریں گے ۔ :razz:

    Reply

  8. میرے والا طریقہ اپنائیں۔۔۔
    جواب ہی نہ دیں
    خود ہی بول بول کر (لکھنا تو کچھ اور چاہتا تھا) تھک جائیں گے

    Reply

  9. کامران دِل پر نا لیں ایسی باتیں کر کے کوئ کِسی کا کُچھ نہیں بِگاڑ سکتا بس اپنا آپ ظاہِر کرتا ہے اورساتھ میں بِلا وجہ گھر کی تربیت پر حرف بھی لے آتے ہیں لوگ لیکِن سمجھتے بِالکُل نہیں ہیں آخِر باقی اور لوگ بھی تو ہیں نا ہاں بُرائ گو کم بھی ہو تب بھی دِکھائ زیادہ دیتی ہے چھوڑو

    Reply

  10. ایک ہی اصول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا کرو یا پھر مٹی پاؤ :|

    Reply

  11. آپی میں نے تو انہیں پکڑا بھی نہیں چھوڑوں کیسے چلیں آپ کہتی ہیں تو چھوڑ دیا۔ :razz:
    عمر بھائی جان بیٹھو روٹی شوٹی کھا کے جاناں ۔ :cool:

    Reply

  12. جعفر بائی جان طریقہ باطریق احسن لکھیں تاکہ سب استفادہ کر سکیں اور بچ سکیں ایسے کتوں سے :evil:

    Reply

  13. ٹھند رکھو یار
    جعفر کی بات ٹھیک ہے
    کہنے والے کو کہنے دو جو کہتا ہے
    جب تک گالم گلوچ نہیں کرتا جب تک ماڈریٹ کرنے کی ضرورت نہیں

    Reply

  14. آسان ترین حل یہ ہے کہ کمنٹس کو ماڈریشن میں ڈال دیں ہر کمنٹ کو چیک کریں پھر قارائین تک لائیں

    Reply

  15. فل ٹائم جاب :sad: نہ وائی نہ

    Reply

  16. ارے واہ مجھے پتا ہی نہیں اور یہ سب ہو گیا ۔ کامی میری اپنی کوشش ہوتی ہے بھائی کہ کوئی ایسی بات نہ کہوں اور نہ کوئی مجھے کہے ۔۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے میں نے بھی ایسی کچھ باتیں کہی تھی تو مجھے یہ کہہ کر چپ کرارہ دیا کہ بلاگ پر سب کو سب کچھ کہنے کا حق ہے وہ دن اور آج کا دن بہت سی باتیں بہت سے بلاگ مجھے پسند نہیں وہاں بیہودہ بکواس ہوتی ہے ۔ وہاں تبصرہ کرنے والے بھی سارے مرد حضرات ہی ہوتے ہیں ۔ اب تو ان بلاگز پر جانا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ خیر بھائی اگر میری وجہ سے کوئی پریشانی ہوئی ہو تو میں معذرت چاہوں گی ۔خوش رہو

    Reply

  17. تانیہ بہن کیسی بات کر رہی ہیں کیوں شرمندہ کرتی ہیں میں تو غلط الفاظ لکھنے والے کتوں کی بات کر رھا ہوں جو اپنا نام و نشان نہیں رکھتے آپ سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں اللہ آپ کو بھی سلامت اور شاداب رکھے ۔

    Reply

  18. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی یہ مشکل توہےاگریہ آپشن آن کریں گےتوتبصرےکم ہوں گے۔ اس کاطریقہ یہ بھی ہے انکوبھرپورجواب دیا۔تاکہ وہ یادرکھیں کیونکہ واقعی آپ کی بات ٹھیک ہے وہ جیسی تربیت ویسی ہی سوچ ۔لیکن والدین کوعلم بھی نہیں ہوتاکہ انکی اولادکیاگل کھلاتیں ہیں۔ماناکہ والدین پہلی درس گاہ ہےلیکن معاشرےمیں جیسادوست ویساہی بندہ بنتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

    Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.