میں اپنے آپ کو اس بلاگستان کا سب سے کرخت بلاگر سمجھتا تھا اسی وجہ سے لیڈیز بلاگر میرے بلاگ سے دور بھاگتی ہیں مگر اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میں اتنا برا نہیں جتنا مجھے سمجھا جارھا ہے مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی ہے میں بات کرنا چاھ رھا ہوں ان کمنٹس کی جو شاہدہ آپی کے بلاگ پر کیے گے۔
آجکل بلاگ پر بہت ہی غلط قسم کے لوگوں کا آنا جانا ذیادہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے غلط اور بے ہودہ قسم کے تبصرے ذیادہ کیے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو جیسی تربیت ہو گی ویسی ہی سوچ ہو گی مگر تبصرہ کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھ اور پڑھ لینا چاہیے کہ کس کے بلاگ پر تبصرہ کر رھا ہوں اور کیا لکھ رھا ہوں ۔
شاہدہ آپی کے بلاگ پر ہونے والے تبصرے میں نے پڑھے تو نہیں مگر تانیہ بہن کے بلاگ پر ایسے تبصرے میری نظر سے گزرے تھے جہاں تانیہ بہن نے شاہدہ آپی کی طرح پورے صبر اور تحمل کے ساتھ کام لیتے ہوئے نا صرف ان تبصروں کو پبلش کیا بلکہ انکا بھر پور جواب بھی دیا ۔
کسی لیڈیز یا جینٹس بلاگ پر ہر شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس قسم کی حرکت کرنے والا اپنا تو نقصان کرے گا ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ بھی نکالے گا اللہ تعالی ہر ماں باپ کو ایسی اولاد سے بچائے جو انکی عزت کا دشمن بن جائے ۔
آپ سب حضرات کی خدمت میں خصوصاٌ اردو بلاگ کی انتظامیہ کے گوش گزار کروں گا کہ وہ کوئی ایسی صلاحیت پیدا کریں کہ جس سے نامعلوم لوگ کسی بھی بلاگ پر تبصرہ نہ کر سکیں جب تک کہ وہ ای میل ایڈریس اردو بلاگز پر رجسٹر نہ ہو جائے ۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے ۔
یہ آپ اور میرے لیے چیلنج ہے کہ اپنی ماں بہنوں جیسی ہستیوں کو ان گٹر کی گندگی جیسے لوگوں سے محفوظ کریں ۔
شکریہ کامی
29 Jan
Posted by ابن سعید on January 29, 2010 at 4:22 am
کامران بھائی اس قسم کی دہشت گردی فورم، ذاتی پیغام اور اب بلاگ تبصروں تک میں نظر آںے لگی ہے۔ جب جب ننگ انسانیت مجروح ہوتی ہے یا کسی کے عزت نفس کا جنازہ نکلتا ہے یا کوئی بد اخلاقی کی عمیق گہرائیوں میں گرتا ہے جہاں سے اس کے گرنے کی گونج بھی واپس نہیں آتی تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ضزباتی تقریر اپنی جگہ پر میں وحدہ لا شریک کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھ جیسا غیر مشتعل مزاج رکھنے والا شخص بھی مٹھیاں بھینچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
آپ نے جس تکنیکی حل کی بات کی ہے اس کا طریقہ کم از کم ورڈ پریس میں موجود ہے۔ بس تبصرے کی ترتیبات میں جا کر تبصرہ کرنے کے لئے رکن ہونا اور لاگن ہونا ضروری کرنا ہوتا ہے۔ پھر سارے صارفین کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر اس بلاگ کے وزیٹر کے طور پر ریجسٹر ہوں جہاں تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ترکیب تبصروں کی تعداد بری طرح متاثر انداز ہوتی ہے۔ نیز ہر کسی کو ہر بلاگ پر ریجسٹر ہونا پڑتا ہے۔ ہر جگہ لاگن ہونے کی مصیبت کا ایک حل اوپن آئی ڈی کا استعمال ہے۔
بہر بذرگوں کو کہتے سنا ہے کہ:
کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی اپنی چال چلتا رہتا ہے۔
Posted by افتخار اجمل بھوپال on January 29, 2010 at 10:56 am
ورڈ پریس والا سلسلہ مبصرین کیلئے تکلیف دہ ہے کیونکہ ہر کسی کے پاس بلکہ اچھے مبصرین کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا کہ وہ یہ فارم پُر کریں میں نے دُشنام طرازی کرنے والے ایء شخص کو بلاک کیا ہوا ہے مگر اُس کی وجہ سے کچھ اور مبصرین بھی بلاک ہو جاتے ہیں ۔ اسلئے میں بلاک شدہ تبصرے دیکھتا رہتا ہوں اور ان میں جو بے شک میری ذات کے خلاف ہوں مگر تہذیب سے گرے نہ ہوں اُن کو بحال کر دیتا ہوں
Posted by تلخابہ on January 29, 2010 at 2:19 pm
بھائیوں بلاگ کر اخبار یا ٹی وی نہ بناو ۔ ہمارے ابلاغی ذریعے پہلے ہی سینسرشپ کے مرض میںمبتلا ہے ۔ آُپ کسی کا بھی تبصرہ نہ روکے اگر کوئی برا تبصرہ کرے گا تو اس سے اس کی شخصیت کی عکاسی ہوگی۔ گالم گلوچ کو اپنے کمنٹ ایڈیٹ سیکشن میںڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔
Posted by کنفیوز کامی on January 29, 2010 at 3:08 pm
ابن سعید بھائ بہت شکریہ آپ کی بات درست ہے مگر اجمل صاحب کی بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے مجھے ذاتی طور پر پاس ورڈ لگانا اور لاگ ان ہو کر کمنٹ کرنا پسند نہیں جیسا بلاگ سپاٹ پر ہوتا ہے مگر میں وہاں اپنا پورا نام ضرور چھوڑتا ہوں تلخابہ صاحب بات صرف گندے لوگوں کے لیے ہو رہی ہے جن کا آپ بھی ذکر فرما رہے ہیں۔
Posted by راشد کامران on January 29, 2010 at 10:40 pm
کامران بھائی اس پر ایک دفعہ میں نے بھی تفصیل سے پوسٹکی تھی۔۔ آپ نوٹ کریں گے کہ مبصر جتنا انقلابی اپنے آپ کو ظاہر کریں گے اتنی ہی زیادہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اور اکثر غیر معروف یا گمنام تبصروں کا الیکٹرانک ڈی این اے اپنے بلاگ پر چیک کریں تو پتا چلے گا کہ اکثر ایک ہی سلسلے میں بیعت کیے ہوئے ہیں۔ دیکھیں جیسا کہ کئی دوسرے لوگوں نے رائے دی کہ یہ ذہنی بیماری کی علامت ہے اور بیمار کی باتوں پر انسان صرف صبر کرتا ہے اور اللہ سے شفا کی دعا کرتا ہے اور اپنی طرف سے جو بن پڑے دوا کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیںہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے چکر میں اپنے بلاگ کو بگاڑنے سے بہتر ہے کہ ان کو نظر انداز کردیا جائے۔۔ اکثر ان تبصروں کا مقصد غیر ضروری اور اختلافی نوعیت کے مسائل پر تیل ڈالنا ہوتا ہے اگر اردو بلاگنگ کے لوگ اس طرح کے تبصروں کو پہچان پر اس پر اپنا رد عمل محدود کردیں تو شاید کافی افاقہ ہو۔
Posted by محمداسد on January 29, 2010 at 11:26 pm
بعض لکھنے اور پڑھنے والے بلاگ کو ہائیڈ پارک تصور کرتے ہیں۔ جہاں جو منہ میں آئے لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان لفظوں سے خود ان کی تعلیم و تربیت کا پول کھل جاتا ہے۔ ایسے میں سونے پہ سہاگا چور دروازے یعنی نامعلوم شناخت کا استعمال۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ بلاگ انتظامیہ کو کوئی ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے جس سے ان بلاگی دہشتگردوں اور بلاگی دراندازوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ لیکن بات پھر وہی آجاتی ہے کہ ہر ایک کا اپنا بلاگ ہے، وہ جو چاہے قانون رکھے۔ ایسے میں متفقہ طریقہ ممکن نظر نہیں آتا۔
Posted by کنفیوز کامی on January 30, 2010 at 2:43 am
شکریہ راشد بھائی اور محمد اسد بھائی تو ٹھیک ہے آج کے بعد انکو ” کتا ” ہی کہا کریں گے ۔
Posted by جعفر on January 30, 2010 at 10:00 am
میرے والا طریقہ اپنائیں۔۔۔
جواب ہی نہ دیں
خود ہی بول بول کر (لکھنا تو کچھ اور چاہتا تھا) تھک جائیں گے
Posted by شاہدہ اکرم on January 31, 2010 at 3:13 am
کامران دِل پر نا لیں ایسی باتیں کر کے کوئ کِسی کا کُچھ نہیں بِگاڑ سکتا بس اپنا آپ ظاہِر کرتا ہے اورساتھ میں بِلا وجہ گھر کی تربیت پر حرف بھی لے آتے ہیں لوگ لیکِن سمجھتے بِالکُل نہیں ہیں آخِر باقی اور لوگ بھی تو ہیں نا ہاں بُرائ گو کم بھی ہو تب بھی دِکھائ زیادہ دیتی ہے چھوڑو
Posted by عمر احمد بنگش on January 31, 2010 at 3:26 am
ایک ہی اصول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا کرو یا پھر مٹی پاؤ
Posted by کنفیوز کامی on January 31, 2010 at 3:39 am
آپی میں نے تو انہیں پکڑا بھی نہیں چھوڑوں کیسے چلیں آپ کہتی ہیں تو چھوڑ دیا۔
عمر بھائی جان بیٹھو روٹی شوٹی کھا کے جاناں ۔
Posted by کنفیوز کامی on January 31, 2010 at 3:42 am
جعفر بائی جان طریقہ باطریق احسن لکھیں تاکہ سب استفادہ کر سکیں اور بچ سکیں ایسے کتوں سے
Posted by ڈفر - DuFFeR on February 3, 2010 at 11:32 pm
ٹھند رکھو یار
جعفر کی بات ٹھیک ہے
کہنے والے کو کہنے دو جو کہتا ہے
جب تک گالم گلوچ نہیں کرتا جب تک ماڈریٹ کرنے کی ضرورت نہیں
Posted by عبدالقدوس on February 7, 2010 at 8:07 am
آسان ترین حل یہ ہے کہ کمنٹس کو ماڈریشن میں ڈال دیں ہر کمنٹ کو چیک کریں پھر قارائین تک لائیں
Posted by کنفیوز کامی on February 8, 2010 at 4:52 pm
فل ٹائم جاب
نہ وائی نہ
Posted by تانیہ رحمان on February 13, 2010 at 1:44 am
ارے واہ مجھے پتا ہی نہیں اور یہ سب ہو گیا ۔ کامی میری اپنی کوشش ہوتی ہے بھائی کہ کوئی ایسی بات نہ کہوں اور نہ کوئی مجھے کہے ۔۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے میں نے بھی ایسی کچھ باتیں کہی تھی تو مجھے یہ کہہ کر چپ کرارہ دیا کہ بلاگ پر سب کو سب کچھ کہنے کا حق ہے وہ دن اور آج کا دن بہت سی باتیں بہت سے بلاگ مجھے پسند نہیں وہاں بیہودہ بکواس ہوتی ہے ۔ وہاں تبصرہ کرنے والے بھی سارے مرد حضرات ہی ہوتے ہیں ۔ اب تو ان بلاگز پر جانا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ خیر بھائی اگر میری وجہ سے کوئی پریشانی ہوئی ہو تو میں معذرت چاہوں گی ۔خوش رہو
Posted by کنفیوز کامی on February 13, 2010 at 3:04 am
تانیہ بہن کیسی بات کر رہی ہیں کیوں شرمندہ کرتی ہیں میں تو غلط الفاظ لکھنے والے کتوں کی بات کر رھا ہوں جو اپنا نام و نشان نہیں رکھتے آپ سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں اللہ آپ کو بھی سلامت اور شاداب رکھے ۔
Posted by جاویداقبال on March 4, 2010 at 8:26 pm
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی یہ مشکل توہےاگریہ آپشن آن کریں گےتوتبصرےکم ہوں گے۔ اس کاطریقہ یہ بھی ہے انکوبھرپورجواب دیا۔تاکہ وہ یادرکھیں کیونکہ واقعی آپ کی بات ٹھیک ہے وہ جیسی تربیت ویسی ہی سوچ ۔لیکن والدین کوعلم بھی نہیں ہوتاکہ انکی اولادکیاگل کھلاتیں ہیں۔ماناکہ والدین پہلی درس گاہ ہےلیکن معاشرےمیں جیسادوست ویساہی بندہ بنتاہے۔
والسلام
جاویداقبال
Posted by کنفیوز کامی on March 5, 2010 at 3:30 am
شکریہ جاوید بھائی آنے کا اور قیمتی تبصرے کا ۔