عربوں کے قیدی

ایک اور قبیلہ جن کو بلوچی کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو مکرانی بھی کہلاتے ہیں یہاں آباد ہیں غالبا انکی دوسری یا تیسری نسل چل رہی ہے اور انکا یہ حال ہے کہ آج تک ان کو اماراتی تسلیم نہیں کیا گیا ۔
ان کے گھر آج بھی پرانے سٹائل کے ہیں جبکہ روز گار بھی پرانا ہے مچھلیاں پکڑنا۔
انکے پاس نوکری نہیں اگر ہے تو تیسرے درجے کی انکی اپنی کوئی شناخت نہیں انکے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں یہ کئی عشروں سے اس جگہ آذاد قیدی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
بظاہر یہ عربوں کا قومی لباس کدورہ پہن سکتے ہیں مگر بلکل عربوں جیسا نہیں بلکہ اس سے مختلف کیونکہ اس کی انکو اجازت نہیں۔
ایک دن ایک بلوچی سے باتوں باتوں میں اس بات کا ذکر چھڑ گیا (حالاں کے یہ اس ٹاپک پر بات نہیں کرتے ) تو وہ اپنے حلات سناتے ہوئے رونے لگ گیا کہ میری کیا زندگی ہے کہ میں واپس اپنے علاقے مکران میں بھی نہیں جا سکتا ۔ساری زندگی یہاں ہی گزرگئی ہے مجھے اپنا مستقبل بھی تاریک لگ رھا ہے ۔

اب ان عربوں کی سنیے انکے پاس ڈپلومیٹ پاسپورٹ ہیں امریکہ انگلینڈ آسٹریلیا بغیر ویزہ کے جا سکتے ہیں کوئی چیکنگ نہیں ۔
ایسے کتنے ہی عرب لڑکوں کو میں جانتا ہوں جو صرف ان ممالک میں حکومتی پیسے پر تعلیم کے نام پر عیاشی کرتے ہیں ۔

بڑی گاڑی رکھنا پانچ پانچ شادیاں کرنا اور طلاقیں دینا ریمشی اور آواز پیدا کرنے والا کپڑا پہننا ہزار درھم فی اونس والی خوشبو لگانا لگثری کئی کئی کنالوں میں پھیلے گھر جو حکومت انکو اپنے خرچے پر بنا کر دیتی ہے ۔
گھر کے ہر فرد کی اپنی مہنگی سے مہنگی گاڑی باتیں رئیسوں والی مگر جیب سے فقیر کیونکہ اپنی آدھی سیلری یہ بنک کو دے دیتے ہیں باقی یہ اپنی شاہ خرچیوں میں اڑا کر مہینے کی دس تاریخ کے بعد فقیر ہو جاتے ہیں ۔
شادیوں پر پر تعیش کھانے مہنگے لباس روشنیوں میں نہایا ہوا چراغاں جو پورے پندرہ دن تک ہوتا ہے ۔

اپنی ذات اور عیاشیوں پر لاکھوں درھم خرچ کرنے والے جب ہم جیسوں غریب الوطن کی شاپس پر آتے ہیں تو تیس درھم کے لیے حرام حرام کے نعرے لگاتے ہیں اور تیس درھم انکی جان نکانے والا فرشتہ بن جاتے ہیں ۔
انکے قانون تحفظ تو دیتے ہیں انصاف نہیں ۔
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے ہو
یہ جو تم بھول جایا کرتے ہو
ان غریب الوطن لوگوں کے جسم سے ایک ایک قطرہ خون نچوڑنے والے یہ بات بھولے بیٹھے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔آج گلف میںہر پردیسی اداس اور پریشان ہے ۔

ظلم وستم کی تصویریں ہیں رستے رستے لوگ
ویراں لہجے اجڑے چہرے سہمے سہمے لوگ
سارے چہرے زرد ملے اور دل بھی مرجھاے
کہاں گئے وہ پھولوں جیسے مہکے مہکے لوگ

اس تصویر میں ھاتھ باندھے کھڑا یہ لوکل کم از کم تیس سے پچاس ہزار تنخواہ لے رھا ہو گا اور محنت اور پسینے سے شرابور ان ورکرز کی تنخواہ مشکل سے پانچ سے آٹھ سو درھم ہو گی ۔ اپنے خون پسینے سے اس صحرا کو ان کے لیے جنت بنانے والے آج کس طرح دھوکے سے واپس بھیجے جا رہے ہیں یہ ایک الگ سٹوری ہے ۔
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر کیا فائیدہ پڑھنے والے کے پاس ٹائیم ہی نہیں ۔

ٹیسٹ پوسٹ

کیا میرا بلاگ کام کر رھا ہے کہ نہیں

جسم اور روح

ضرورت ایجاد کی ماں ہے یہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے ۔
انسان مٹی سے بنایا گیا پھر اسے گوشت میں بدل دیا گیا اس گوشت کے انسان نے اپنے جسم کی راحت اور سجاوٹ کے لیے کیا کیا ایجاد نہیں کیا ۔
انسانی بدن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حالت بدلتا رھتا ہے عروج سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا بندن مخلتف حالات اور واقعات سے گزرتا ہوا زوال تک پہنچتا ہے اور دوبارہ مٹی میں مل جاتا ہے ۔
مگر انسان ہے کہ اسی تگ و دو میں لگا رھتا ہے کہ یہ ہمیشہ جوان اور خوبصورت ہی رہے ۔
اگر سر سے پاوں تک جائزہ لیا جائے تو کتنی ایجادات انسانی جسم کے لیے کی گئیں ہیں ۔ جیسے سر کے بال دوبارہ اگانے کے لیے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری وجود میں آئی پھر اسے استعمال کروانے کے لیے احساس کمتری اور شادی کا نہ ہونا کو اہم موضوع بنایا گیا کہ اگر سر پر بال نہیں تو آپ کی شادی نہیں ہو سکتی احساس کمتری کاشکار ہو نا چھوڑیے اور آج ہی لاکھوں روپے کی تکلیف دہ سرجری کروائیں اور احساس کمتری سے نجات پائیں شادی کروا کر بال دوبارہ غائب کروائیں۔
ناک پتلا موٹا اور سیدھا کرنے چہرے کی جھریاں ڈھلتی عمر کو چھپانے کے لیے پلاسٹر سرجری کو استعمال کیا گیا۔ کئی دولت مند حسیناوں اور مردوں نے اپنے جسم کو اس سرجری سے تراش خراش کے خوبصرت بنانے کی کوشش کی ۔
آنکھوں کے لیے طرح طرح کے رنگ برنگے لینز بنائے گئے جن سے آپ گرگٹ کی طرح اپنی آنکھوں کا رنگ بدل سکتے ہیں ۔
چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں سے بال ختم کرنے کے لیے کئی طرح کی کریمیں ویکس اور لیزر مشینیں بنائی گئیں جن سے مردوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے ۔
انسان کو گورے کالے رنگ کے چکر میں ڈال کر فضول اور بے کار فارمولوں کی
کریموں سے لوٹا جا رھا ہے جن کا فائدہ کم نقصان ذیادہ ہے ۔ مزے کی بات کہ اس دوڑ میں خواتین کو بے وقوف بنا کر اچھی طرح لوٹنے کے بعد اب مردوں کی باری آ گئی ہے جن کے لیے نت نئی کریمیں بازار میں آ چکی ہیں ۔
اب کالے مرد حضرات بھی ان کریموں کی برکت سے گورے ہو سکتے ہیں ۔
انسان جسم کی خوبصورتی کے لیے نت نئے فیشن ایجاد کرتا ہے حالاں کہ اگر آپ ایسے ڈھنگ کے کپڑے ہی پہن لیں جن کو پہن کر آپ واقعی انسان ہی لگیں تو کافی ہیں۔
لیکن بے تکے فیشن کر کے مرد اور عورت دونوں سجے ہوے عید کے گاے بکرے ہی لگتے ہیں ۔
یہ تو تھی جسم کی بات جس کو سجانے سنوارنے کے لیے انسان دن رات سوچتا اور دوڑ بھاگ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن
اس جسم کے اندر ایک ایسی روحانی ہستی بھی رہتی ہے جس کو ” روح ” کہتے ہیں۔
انسان اگر جسم اور روح کا حساب کرے تو کتنے فیصد توجہ جسم کو اور کتنے
فیصد روح کو دیتا ہے ۔
روح کو بھی غذا چاہیے روحانیت کی غذا ذکر اور افکار کی غذا جس سے یہ صحت مند اور توانا رہتی ہے ۔
مگر شیطانی کام موسیقی کو روح کی غذا کہ کر غلط تشریح کی جارہی ہے۔
جھوٹ فریب مکاری دھوکے بازی جسم کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتے ہیں وقتی سکون دے سکتے ہیں مگر روح کے لیے یہ سب بیماریاں ہیں ۔
جسم کو بیماری لگ جائے تو ہم ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں مگر روح کا علاج کبھی نہیں کرتے ۔
سوچیں کہ آپ اپنی روح کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں؟

ہے کسی کو خبر

شاہدہ آپی کا بلاگ بہت عرصے سے کام نہیں کررھا معلوم نہیں کسی نے کوئی نوٹس کیوں نہی لیا اگرچہ شاہدہ آپی کے لیے یہ آرام کرنے کا بہترین موقع ہے مگر لکھنے والے جب تک کچھ لکھ نا لیں انہیں آرام نہیں آتا ۔
اللہ آپی کو جلد از جلد صحت یاب کرے اور انکے بلاگ کو بھی نئی زندگی دے ۔
آپی اگر آپ کچھ لکھنا چاہتی ہیں تو میں نے ورڈ پریس کا ایک بلاگ دیا تھا جس پر آپ نے ٹیسٹ پوسٹ کی تھی آپ اسے استعمال کر لیں نہیں تو میرا بلاگ حاضر ہے میں اسکا پاس ورڈ آپکو ایمیل کر دیتا ہوں اگر آپ کہیں ۔
شاہدہ آپی کے دوسرے بلاگ کا ایڈریس نوٹ کر لیں ۔

http://yabasit.wordpress.pk/

اردو ویب والے بھائیوں سے درخواست ہے کہ اسے چیک کریں کیا مسلہ ہے ۔

کنفیوز کامی

ایک انوکھی لاحاصل تلاش

جب یہ تحریر میری نظر سے گزری تو دل چاھا کہ میں بھی کچھ اپنے خیالات شئیر
کروں ان حیدرآبادی خواتین کے متعلق ۔
یوں تو یہ حیدرآبادی پورے یو اے ای میں پھیلے ہوے ہیں مگر دبئ اور اس کے اردگرد کے علاقے ابوظہبی فجیرہ میں ان کی تعداد ذیادہ ہے ۔
یہ عورتیں ان عربوں کے ساتھ شادی کیوں کرتی ہیں اسکی کئی وجوھات ہیں ۔
اول تو یہ حیدرآباد کی روایت ہے جو چلی آ رہی ہے ۔
ان کے علاقے میں غربت کا ذیادہ ہونا۔
عربوں کا اپنی دولت کا اثر ورسوخ ان پر چھوڑنا۔
شاید کچھ دولت کے لالچ میں آکر ایسا کرتے ہیں ۔
کچھ اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ۔
ہمارا ایک کسٹمر ہے جس کی عمر ستر سال کے قریب ہے اور حال ہی میں وہ حیدآباد سے ایک انیس بیس سال کی لڑکی بیاہ کر لایا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسکی تین بیویاں وفات پا چکی ہیں ۔اس بات کا پتا ایسے چلا کہ وہ اپنی بیوی یعنی اس لڑکی کو نیا سونی کا لیپ ٹاپ دلانے کے لیے لایا تھا۔
خود ہمارے شاپ کے کفیل نے حال ہی میں حیدآبادی خاتون کو طلاق دے کر ایک سوریا کی خاتون سے چوتھی شادی کی ہے وجہ اولاد کا نا ہونا جس کے لیے وہ تین کو طلاق دے چکا چوتھی پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور تین بچوں کی ماں ہے مگر ابھی تک کی صورت حال پرانی ہی ہے۔
ہماری شاپ جس علاقے میں ہے وہ قدیم علاقہ ہے اور یہاں حیدرآبادی خواتین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔انکی اولاد بھی اب یہاں جوان ہو چکی ہے ۔
ان میں سے اکثر خواتین کے خاوند وفات پا چکے ہیں ۔ وجہ معلوم کرنے پر ایک حیدرآبادی دوست نے ہی بتایا کہ یہ خواتین دولت کے لیے شادی کرتی ہیں اور پھر یہاں آکر جادو ٹونہ کے ذریعے اپنے خاوند کو مروا کر ساری دولت کی مالک بن جاتی ہیں۔
یاد رہے یہاں حکومت بیوہ کو تا حیات خرچہ اور سہولیات دیتی ہے ۔
کچھ حیدرآبادی خاندان جو بہت کم ہیں یہاں خوشحال ہیں باقی سب کی حالت اتنی اچھی نہیں جو اس سٹوری کی سچائی ثابت کرتی ہے ۔
آخری بات کہ ان عربوں سے انہیں کچھ نہیں ملنے والا چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں جتنے مرضی ٹیسٹ کروالیں۔
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ایک انوکھی تلاش
عمر فاروق
بی بی سی ، حیدرآباد

ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں مقامی لڑکیوں کی شادی عرب شہریوں کے ساتھ کرائے جانے کی روایت ہے۔
حیدرآباد جب نظام کے دور میں علحیدہ صوبہ تھا اس وقت بھی عرب ممالک کے ساتھ اس کے خاص تعلقات تھے اور آج بھی حیدرآباد میں عربوں کی ایک الگ بستی ہے جو بارکس کے نام سے مشہور ہے۔

لیکن گذشتہ چار دہائیوں سے یہ شادیاں تنازعات کا شکار ہوتی رہی ہیں اور اب اس مسئلہ کا نیا پہلو سامنے آ رہا ہے۔
دراصل اب عربوں کے ان بچوں نے اپنے حق کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے جن کے والد انہیں اور ان کی ماؤں کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلے گئے اور کبھی لوٹ کر واپس نہيں آئے۔

حیدرآباد کے پرانے شہر میں رہنے والی رقیہ بیگم ان سینکڑوں خواتین ميں سے ایک ہیں جن کی شادی ایک عرب شہری سے ہوئی تھی۔
رقیہ کی شادی انیس سو ستتر میں دبئی کے ایک تاجر علی احمد محمد کلّی سے ہوئی تھی۔ رقیہ کے علاوہ علی محمد نے حیدرآباد میں مزید دو شادیاں کیں جب کہ دبئی میںان کی شادی ایک عرب خاتون سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ حیدرآباد میں علی کے کل چھ بچے ہوئے ہیں۔

سب کچھ صحیح چل رہا تھا لیکن علی محمد کے انتقال کے بعد دبئی میں علی محمد کے بچوں نے حیدرآباد میں اپنے سوتیلے بھائی بہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے پاسپورٹ بھی جلا دیے۔
رقیہ کہتی ہیں’گذشبہ بیس برس میں میرے بچوں نے کافی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ خراب حالات کے سبب انہيں تعلیم بھی حاصل نہیں ہو سکی، اگر ان کے دبئی جانے کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو میں بہت خوش ہوں گی۔‘

اکتیس سالہ ناصر جمال محمد گذشتہ دس برس سے شارجہ میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ ان کے والد جمال محمد نے یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے ناصر کی والدہ فرحت النسا سے شادی کی تھی لیکن وہ ناصر کو اپنے بیٹے کو طور پر تسلیم نہیں کرتے ہيں۔ انہوں نے ناصر سے اس بات کا ثبوت مانگا ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد فرحت نے دوسری شادی نہیں کی۔

ایک اور نوجوان سالم بن حمید بھی دبئی میں رہنے والے اپنے والد کی تلاش میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بے کار زندگی گزار رہا ہوں، میں آٹو رکشہ چلاتا ہوں، جب آمدنی ہو جاتی ہے تو کھانا کھا لیتا ہوں نہيں تو بھوکا رہتا ہوں۔ میری نانی نے میری والدہ کی دوسری شادی کروا دی۔ اب ان کی زندگی الگ ہے اور میں الگ، میرا کیا ہوگا مجھے نہيں پتہ۔‘

ایک اور نوجوان عبداللہ علی احمد کا کہنا تھا کہ ایک عرب کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہیں ہندوستان میں کوئی شناختی کارڈ بھی نہیں مل سکا ہے۔
ایک اور نوجوان یعقوب علی کا کہنا ہے ’مجھے بھی متحدہ عرب امارات کی شہریت چاہیے۔ یہ میرے والد کا حق ہے جو مجھے ملنا چاہیے۔ میں دبئی کے شیخ محمد بن راشد سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارت میں رہنے والے مجھ جیسے تمام بچوں کے سفر سے متعلق دستاویزات تیار کرائیں تاکہ وہ دبئی جا سکیں۔‘

لیکن اب متحدہ عرب امارات اور دبئی سرکار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ان بچوں کا حق تسلیم کریں گے جو مصر، لبنان اور بھارت ميں پیدا ہوئے۔ اس فیصلے نے ان بچوں کو پر امید کر دیا ہے۔
اس عمل کے تحت پچھلے برس اپریل میں دبئی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم ممبئی آئی اور ٹیم نے حیدرآباد سے ایسے بیس لڑکے اور لڑکیوں کو بلاکر ان کے ڈی این اے کی جانچ کروائی۔ لیکن گیارہ مہینے گزرنے کے بعد بھی دبئی سے کوئی جواب نہيں آیا۔

اس ٹسٹ کو سالم، منصور اور ناصر سبھی نے کروایا تھا اور انہیں امید ہے کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں انہيں انصاف ضرور دلائيں گی۔ لیکن دیگر عرب ممالک کے بے سہارا بچوں کے سامنے اس قسم کی کوئی امید نہیں ہے اور شاید بھارت سرکار کو ہی اس سمت میں پہل کرنا ہوگی۔

ہم رہیں یا نا رہیں کل

کامران اصغر کامی کو زندگی کا ایک اور سال پورا کرنے پر مبارک باد آپ نے بھی دینی ہے تو دے دیں اگلے سال کا کچھ پتا نہیں ۔

ہم تو صرف دعا گو لوگ
خاک اور مہر کا کیا سنجوک
پاس رہیں یا دور رہیں
محفل تو آباد ہے نا
آج تمھاری سالگرہ ہے
دیکھو مجھ کو یاد ہے نا

ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
چل
آ میرے سنگ چل
چل
سوچے کیا چھوٹی سی ہے زندگی
کل
مل جائے تو ہو گی خوش نصیبی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل
شام کا آنچل اوڑھ کے آئی دیکھو وہ رات سہانی
آ لکھ کے ہم دونوں مل کے اپنی یہ پریم کہانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
آنے والی صبح جانے رنگ کیا لائے دیوانی
میری چاہت کو رکھ لینا جیسے کوئی نشانی
ہم رہیں یا نا رہیں یاد آئیں گے یہ پل
کل
یاد آئیں گے یہ پل
پل
یہ ہیں پیار کے پل

KK

لذت " الف " دی پائی

جب سے شاپ پر مائیکرو سافٹ اور منسٹری آف اکنامکس کا چکر لگا ہے اس دن سے لیکر آج تک میں پریشان تھا اوپر سے یو اے ای کے حالات ڈاواں ڈول ہیں رہی سہی کسر اس کے بے تکے قانون نکال رہے ہیں۔
اسی پریشانی میں کہ کام کم ہو گیا تو خرچے کہاں سے پورے ہوں گے مگر ساتھ ساتھ اللہ پر بھی پورا یقین تھا کہ وہ ہم پردیسیوں کی ضرور مدد کرے گا اور کچھ نا کچھ نیا راستہ نکل آئے گا ۔
تو آج سے پریشانی ختم ہوئی آج شاپ پر پہلا اوریجنل ونڈوز کے ساتھ نیا پی سی تیار ہوا تو دماغ کو سکون ملا کہ کچھ دیر سہی مگر آہستہ آہستہ پھر وہی رونق واپس آجائے گی جو پہلے تھی ۔
آج اوریجنل سافٹ ویر کے ساتھ اوریجنل سکون بھی محسوس ہوا کیونکہ ایک کمپنی نے ہم سے بیس اوریجنل لائیسنس کے لیے رابطہ کیا ہے اسی لیے کہتے ہیں ایک در بند تو دوسرا کھلا۔
ان تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا ۔
میرے اللہ میں کبھی تجھ سے مایوس نا ہو گا تیری دیر سویر میں حکمت ہے میں سمجھ نا پایا ۔
بابا بلھے شاہ نے کیا خوب کہا تھا ۔۔۔۔

” الف ” اللہ نال رتا دل میرا
مینوں “ب ” دی خبر نا کا ئی
” ب ” پڑھد یاں مینوں سمجھ نا آ وے
لذت ” الف ” دی آئی
” ع ” تے ” غ ” نوں سمجھ نا جاناں
گل ” الف ” سمجھائی
بلھیاء قول ” الف ” دے پورے
جیہڑے دل دی کرن صفائی

وومن ڈے

اھل اسلام اھل پاکستان اور تمام بلاگرز لیڈیز کو وومن ڈے مبارک ہو ۔

چاہے وہ

کسی کھیت میں محنت مزدوری کر رہی ہو ۔
کسی دفتر میں جاب کر رہی ہو ۔
کسی گھر میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو ۔
کسی ظالم نامرد کا ظلم و تشدد برداشت کر رہی ہو ۔
قومی اسمبلی میں دو شادیوں کا اعلان کر رہی ہو ۔
وزیر بن کر شاہی زندگی گزار رہی ہو ۔
کسی کمپیوٹر کے آگے بیٹھی بلاگ لکھ رہی ہو ۔

بل گیٹ کے بل ڈاگ

پچھلے چند مہینوں سے پریشانیوں کا ایسا سلسلہ چلا ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا ابھی تازہ ترین جھٹکے میں جو ہوا وہ کچھ یوں ہے ۔
ہم بھائی حسب معمول سارھے دس شاپ پر آگئے اور اپنے کل کے باقی کام نمٹانے لگے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تھا کہ چار لوکل عربی لباس میں ہماری شاپ میں گھس آئے اور ہم دونوں بھائیوں کو ایک طرف الگ ہونے کا کہا اور شاپ کی تلاشی شروع کردی ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر ایک بولا یہ سب کس کے ہیں ہم نے کہا یہ سب کسٹمرز کے ہیں ۔ ۔۔اچھا ابھی ہمارے افسر آئیں گے اور آپ کی تمام چیکنگ ہو گی۔
ہم نے کہا کس چیز کی چیکنگ ؟
آپ لوگ نقلی ونڈوز اور آفس انسٹال کرتے ہیں ۔
تھوڑی دیر کے بعد ایک اور پانچ اشخاص کا گروپ شاپ میں داخل ہوا اور شاپ میں موجود سب کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو چیک کرنے لگا ۔
یہ سلسہ ایک گھنٹے تک چلا ۔
ہمارا پرسنل اور ایک کسٹمر کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا ساتھ ہی شاپ پر موجود تمام سافٹ ویر بھی لے گئے ۔
اگلے دن ہمیں ٹریڈ سینٹر میں بلایا گیا اور پانچ گھنٹے تک بحث چلتی رہی ۔
آخری اظلاع تک ابھی تک کیس دبئی جا چکا ہے اور کوئی اطلاع نہیں کبھی کہتے ہیں صرف جرمانہ ہو گا کبھی کہتے ہیں جیل ہو گی جرمانے کی حد 10000 درھم سے لیکر 50000 درھم تک ہو سکتا ہے جرمانے کی عدم ادائیگی پر ایک یا تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے ۔
اس دن سے لیکر آج دن تک کام دھندہ چوپٹ ہے بہت ٹینشن ہے دماغ کام نہیں کرتا
یاد رہے یہ آپریشن پورے شہر میں کیا گیا جہاں صرف گنتی کے 20 سے 25 دکانیں اس کام سے متعلق ہیں سب ہی کا کچھ نا کچھ پکڑا گیا ۔

5 لاکھ 10 لاکھ

حکومت وقت
نے عوام کی عزت پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے تہیہ کر رکھا ہے پورے ملک میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ جو میڈیاء میں چھا رھا ہو حکومت کے لیے بجائے بے عزتی کے عزت بنانے کے کام آجاتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس واقعہ کے ذمہ اروں کو جلد از جلد ایسی سزا سے نوازا جائے جس سے متاثر ہونے والوں کو دلی اطمینان اور سکون میسر آئے اور یہ کام حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔
لیکن ہو کیا رھا ہے
بجائے انصاف مہیاء کرنے کے سوٹ بوٹ میں ملبوس حفاظتی گارڈوں کے حصار میں میڈیاء اور صحافتی سحر کی چمکتی سپاٹ لائیٹ کی روشنی میں یہ لوگ ان افراد کے جذبات مجروح کرنے چلے آتے ہیں چند منٹ کی وڈیو بنتی ہے جھوٹے دلاسے اور وعدے کیے جاتے ہیں اور آخر میں میڈیاء کے سامنے آکر عوامی خزانے سے اپنے نام کا لیبل لگا کر پانچ دس لاکھ دینے کا اعلان کیا جاتا ہے جو کسی کو ملتا ہے کسی کو نہیں اور کسی کو دے کر چھین لیا جاتا ہے ۔
میں پوچھتا ہوں
کیا ایسا کرنے سے کسی کی عزت واپس مل جائے گی؟
کسی کا غم سے بھرا دل سکون پا سکے گا؟
کسی بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا؟
نہیں میں تو ڈرتا ہوں کہیں یہ کام مدد کی بجائے فیشن ہی نا بن جاے لوگ اس کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ نا بنا لیں کیونکہ یہ حکومتی حربہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ نا ہو کل کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی حکومت پیسے بانٹنے شروع کردے۔ مثلا فلاں نے فلاں کے منہ پر تھپٹر مارا وزیر اعظم نے گھر جا کر معزرت کی اور 10000 کا چیک پیش کیا۔

حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پیسہ ہر مرض کا علاج نہیں لوٹ کھسوٹ اور کمیشن سے دولت تو کمائی جا سکتی ہے لیکن اس دولت کو اس بانٹ کر عزت نہیں بنائی جا سکتی عزت بنانی ہے تو انصاف دو روٹی کپڑا اور سر پر چھت دو محنت سے روزی کمانے کے لیے ملازمت دو عزت سے جینے دو ۔۔۔۔۔نہیں تو یہ کرسی یہ ملک چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک طوائف بھی اپنا دھندہ چند اصولوں پر چلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.